Bharat Express DD Free Dish

Indians in Germany: جرمنی میں ہندوستانیوں کی تعداد 4 لاکھ کے قریب، 70 ہزار طلبہ کر رہے ہیں اعلیٰ تعلیم حاصل

جرمنی میں ہندوستانی برادری کی موجودگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سستی تعلیم، شفاف ویزا پالیسی اور روزگار کے بہتر مواقع کے باعث تقریباً 70 ہزار ہندوستانی طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے جرمنی کا رخ کر چکے ہیں۔

یورپ کے اہم ملک جرمنی میں ہندوستانی برادری اور طلبہ کی موجودگی نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ سستی تعلیم، شفاف ویزا پالیسی اور روزگار کے بہتر مواقع کے باعث ہندوستانی نوجوانوں اور پیشہ ور افراد کے لیے جرمنی ایک پسندیدہ منزل بنتا جا رہا ہے۔ کم خرچ میں عالمی معیار کی تعلیم اور روزگار کے مضبوط امکانات کی وجہ سے ہندوستانی نوجوانوں کی ترجیحات میں جرمنی اب امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ نمایاں طور پر شامل ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آنے والے وقت میں بھی جرمنی میں ہندوستانی صلاحیتوں اور افرادی قوت کی موجودگی میں مزید اضافے کی توقع ہے۔

جرمنی میں ہندوستانی تارکین وطن کی بڑھتی تعداد

جرمنی میں ہندوستانی تارکین وطن کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، جرمنی میں ہندوستانی شہریوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر تقریباً 3 لاکھ 32 ہزار ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 70 ہزار ہندوستانی نژاد افراد وہاں کی شہریت بھی حاصل کر چکے ہیں۔ اس طرح جرمنی میں ہندوستانی نژاد افراد کی مجموعی تعداد تقریباً 4 لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اگر 2014 سے موازنہ کیا جائے تو اس وقت یہ تعداد محض 50 ہزار تھی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران ہی 60 ہزار سے زیادہ نئے ہندوستانی شہری بہتر ملازمت اور پیشہ ورانہ مواقع کی تلاش میں جرمنی پہنچے ہیں۔

سستی تعلیم نے ہندوستانی طلبہ کو جرمنی کی جانب راغب کیا

جرمنی صرف ملازمت پیشہ افراد اور ماہرین ہی نہیں، بلکہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی طلبہ کی بھی پسندیدہ منزل بنتا جا رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 6 سال پہلے جرمنی میں صرف 25 ہزار ہندوستانی طلبہ زیر تعلیم تھے۔ 2024 میں یہ تعداد بڑھ کر 50 ہزار ہو گئی، جب کہ 2026 میں اس میں نمایاں اضافہ ہوا اور یہ 70 ہزار کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی۔

جرمنی میں اعلیٰ تعلیم کے کم اخراجات اس مقبولیت کی بڑی وجہ ہیں۔ جرمنی کی بیشتر سرکاری یونیورسٹیوں میں فی سمسٹر ٹیوشن فیس تقریباً 750 یورو ہے۔ اس حساب سے ایک سال کی تعلیم پر تقریباً 1500 یورو خرچ ہوتے ہیں۔ کم لاگت میں دنیا بھر میں تسلیم شدہ معیاری تعلیم حاصل کرنے کا موقع ہندوستانی نوجوانوں کو جرمنی کی جانب راغب کر رہا ہے۔

مستقبل میں ہندوستان اور جرمنی کے تعلقات مزید مضبوط ہونے کی امید

روزگار کے بہتر مواقع، مضبوط معیشت اور کم خرچ اعلیٰ تعلیمی نظام نے جرمنی کو ہندوستانی نوجوانوں کے لیے ایک اہم عالمی مرکز بنا دیا ہے۔ وہاں ہندوستانی شہریوں اور طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ آنے والے برسوں میں ہندوستان اور جرمنی کے درمیان تعلیمی اور ثقافتی تعلقات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read