Bharat Express DD Free Dish

نیشنل کانفرنس میں زبردست اختلاف! 18 اراکین اسمبلی نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو لکھا خط، کابینہ میں تبدیلی سمیت کیا یہ بڑا مطالبہ

یادداشت پر دستخط کرنے والے اراکین اسمبلی نے عوامی توقعات اور حکومت کے درمیان بڑھتی دوری، منتخب نمائندوں سے مشورہ نہ کیے جانے اور ان کی شکایات پر توجہ نہ دینے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ 30 اکتوبر کی تاریخ والی اس یادداشت میں ناراض اراکین اسمبلی نے نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت کے کام کاج پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کے دو سال مکمل ہونے کے باوجود جوابدہی کا فقدان ہے اور اہم پالیسی و سیاسی معاملات پر منتخب نمائندوں سے مناسب مشاورت نہیں کی جاتی۔

جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ۔ (فائل فوٹو)

جموں وکشمیرمیں برسراقتدارنیشنل کانفرنس (این سی) کے اندرجاری اندرونی اختلافات اورناراضگی کے درمیان پارٹی کے 18 اراکین اسمبلی نے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کو10 نکاتی یادداشت پیش کی ہے۔ اس میں کابینہ میں ردوبدل، وزیراعلیٰ کے مشیرکوتبدیل کرنے، بدعنوانی کے الزامات کی آزادانہ جانچ اورحکومت وتنظیم کے نظام میں اصلاحات لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔  یہ یادداشت 27 اکتوبرکوعمرعبداللہ کی جانب سے اپنی وزراء کونسل میں توسیع کے بعد سامنے آئی ہے۔

یادداشت پردستخط کرنے والے اراکین اسمبلی نے عوامی توقعات اورحکومت کے درمیان بڑھتی دوری، منتخب نمائندوں سے مشورہ نہ کئے جانے اوران کی شکایات پرتوجہ نہ دینے پرمایوسی کا اظہارکیا ہے۔ 30 اکتوبرکی تاریخ والی اس یادداشت میں ناراض اراکین اسمبلی نے نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت کے کام کاج پرتشویش کا اظہارکیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کے دوسال مکمل ہونے کے باوجود جوابدہی کا فقدان ہے اوراہم پالیسی وسیاسی معاملات پرمنتخب نمائندوں سے مناسب مشاورت نہیں کی جاتی۔

انتخابی وعدے مقررہ وقت میں پورے کرنے کا مطالبہ

اراکین اسمبلی نے فوری اصلاحی اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی منشورنفاذ کمیٹی بنانے کی تجویزپیش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کمیٹی میں منتخب اراکین اسمبلی کومناسب نمائندگی دی جائے، تاکہ وہ حکومت کی پیش رفت پرنظررکھ سکیں، رکاوٹوں کی نشاندہی کرسکیں اوراس بات کویقینی بنایا جاسکے کہ پارٹی کے انتخابی وعدے مقررہ مدت کے اندرپورے ہوں۔ سیاسی محاذ پراراکین اسمبلی نے جموں وکشمیرکومکمل ریاست کا درجہ واپس دلانے اوراس کی آئینی شناخت کے تحفظ کے لیے جدوجہد تیزکرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے لیے انہوں نے عوامی جلسوں، احتجاجی ریلیوں، سیمیناروں اوردیگرجمہوری طریقوں کواختیار کرنے کے ساتھ اس مہم کوپارلیمنٹ تک لے جانے کی تجویزدی ہے۔

بے ضابطگیوں کی جوابدہی طے کرنے کا مطالبہ

یادداشت میں داچی گام اجلاس میں کئے گئے فیصلوں اوردی گئی یقین دہانیوں پرعمل درآمد کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ اراکین اسمبلی نے حکمرانی، انتظامی اموراورعوامی وسائل کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق معاملات کی غیر جانب دارانہ جانچ کرانے کا مطالبہ کیا، تاکہ جہاں بھی بے ضابطگی پائی جائے، وہاں ذمہ دارافراد کا تعین کیا جا سکے۔ اراکین اسمبلی کے اہم مطالبات میں وزراء کونسل کی ازسرنوتشکیل بھی شامل ہے۔ انہوں نے تمام وزراء کی کارکردگی کا غیرجانب دارانہ جائزہ لینے اوربہتر کام نہ کرنے والے وزراء کوہٹا کرنئی ٹیم لانے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ حکومتی کام کاج میں بہتری آئے اورعوام کا اعتماد دوبارہ بحال ہوسکے۔ نائب وزیراعلیٰ سے سڑک اورعمارتوں کا محکمہ واپس لینے کا مطالبہ اراکین اسمبلی نے خاص طورپرکیا ہے کہ نائب وزیراعلیٰ سریندرچودھری کے پاس موجود روڈس اینڈ بلڈنگس ڈپارٹمنٹ کا قلمدان ان سے واپس لے کرکسی دوسرے شخص کودیا جائے۔ ان کے خلاف مبینہ بدانتظامی اوربڑے پیمانے پربدعنوانی کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے اراکین اسمبلی نے آزاد اورغیرجانب دارانہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں بھی بے ضابطگی ثابت ہو، وہاں مناسب کارروائی کی جائے۔ یادداشت پردستخط کرنے والوں نے وزیراعلیٰ کے موجودہ مشیرکے نظام کوختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ اس نظام کی وجہ سے پارٹی قیادت، منتخب نمائندوں اورحکومت کے درمیان دوری پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے بہترتال میل، مشاورت اورجوابدہی کے لئے اس کی جگہ مناسب نظام لانے کی تجویزدی ہے۔

تجربہ کاراراکین پرمشتمل مشاورتی گروپ کی تجویز

فیصلہ سازی کے عمل میں منتخب نمائندوں کی شمولیت بڑھانے کے لیے اراکین اسمبلی نے تین سے چارتجربہ کاراراکین پرمشتمل ایک مشاورتی گروپ بنانے کی تجویزدی ہے۔ یہ گروپ حکومتی پروگراموں، پالیسی فیصلوں، فلاحی اسکیموں، ترقیاتی ترجیحات اورعوامی مفاد سے متعلق دیگرامورپرباقاعدگی سے وزیراعلیٰ کے ساتھ تبادلہ خیال کرے گا۔ یادداشت میں ایک اعلیٰ سطحی ڈسپلنری کمیٹی بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ کمیٹی وزراء، اراکین اسمبلی اورپارٹی کے دیگرعہدیداروں کے خلاف آنے والی شکایات کی جانچ کرے گی اورنظم وضبط کی خلاف ورزی کے معاملات میں کارروائی کرے گی، خواہ متعلقہ شخص کا عہدہ یا اثرورسوخ کچھ بھی ہو۔

پارٹی تنظیم میں نئی جان ڈالنے پر زور

تنظیمی سطح پراراکین اسمبلی نے ایک پیشہ وراوربااختیارمیڈیا اورکمیونیکیشن سیل بنانے کی تجویزدی ہے۔ اس کا کام حکومت کی کامیابیوں کواجاگرکرنا، درست معلومات عوام تک پہنچانا اوراپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پھیلائی جانے والی مبینہ غلط معلومات اور پروپیگنڈے کا جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے پارٹی میں وسیع پیمانے پرتنظیمی اصلاحات، پارٹی ڈھانچے میں نئی جان ڈالنے اورایک مخصوص الیکشن سیل قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ یہ سیل سیاسی حالات کا جائزہ لے گا اورتنظیم کومستقبل کے انتخابی چیلنجوں کے لیے تیارکرے گا۔

ہردوماہ میں ریاستی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس

ایک اورتجویزمیں کہا گیا ہے کہ ریاستی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس کم ازکم ہردوماہ میں ایک مرتبہ بلایا جائے۔ اراکین اسمبلی کا کہنا ہے کہ ان اجلاسوں کے ذریعہ ایک ایسا پلیٹ فارم ملنا چاہئے جہاں حکومت کے کام کاج کا جائزہ لیا جا سکے، پارٹی کے وعدوں پرعمل درآمد کا اندازہ لگایا جا سکے اورتنظیمی وسیاسی امورپرتبادلہ خیال ہوسکے۔ اپنی بات کے آخرمیں اراکین اسمبلی نے واضح کیا کہ ان تجاویزکا مقصد تنظیم کوکمزورکرنا نہیں بلکہ حکومت اور پارٹی کومزید مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے عمرعبداللہ سے اپیل کی کہ وہ متفقہ طورپرپیش کیے گئے ان مطالبات کوسنجیدگی سے لیں اورجلد ازجلد اصلاحی اقدامات کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ اقتدارمیں دوسال مکمل ہونے کا یہ وقت خود احتسابی، حکومتی طریقہ کارمیں بہتری اورجموں وکشمیرکے عوام کی توقعات پرپورا اترنے کے عزم کی تجدید کا ایک اچھا موقع ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read