نئی دہلی :سناتن ثقافت کے ابدی مرکز، کاشی میں گنگا کے گھاٹوں پر منعقدہ ’جدید چیلنجوں کے لیے قدیم حکمت پر عالمی سمپوزیم‘ (The World Symposium on Ancient Wisdom for Modern Challenges) کے بین الاقوامی پلیٹ فارم سے خطاب کرتے ہوئے، اڈانی فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن ڈاکٹر پریتی اڈانی نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت اور وارانسی میں عالمی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلی کی بھرپور تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے دوراندیش نظریے نے کاشی کے قدیم وقار کو جدید دنیا سے اس طرح جوڑا ہے کہ آج یہ شہر ہندوستان کی بڑھتی ہوئی عالمی ساکھ اور ثقافتی سفارت کاری کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔ ڈاکٹر پریتی اڈانی نے اپنے خطاب کا آغاز کاشی کے روحانی ماحول اور گنگا کی مسلسل بہتی دھارا کے تئیں گہری عقیدت کے اظہار سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے جب اس روحانی شہر کو اپنا پارلیمانی حلقہ منتخب کیا، تب سے کاشی نہ صرف ملک بلکہ پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
عالمی لیڈروں کی میزبانی کا کیا ذکر
#WATCH | Varanasi, Uttar Pradesh: Dr Priti Adani, Chairperson of the Adani Foundation, gives an address at the World Symposium on Ancient Wisdom for Modern Challenges.
She says, “… Our Prime Minister Narendra Modi chose this holy city as his parliamentary constituency. Under his visionary leadership, Varanasi has become a confluence of cultures and a symbol of India’s growing global presence. We have seen the late Japanese Prime Minister Shinzo Abe experience the holy chants in this city. We have seen the French President Emmanuel Macron take a boat ride along the riverside… Ancient wisdom does not have to remain… It becomes valuable when we discover its relevance to modern-day problems…”
(Source: Adani Group)
— ANI (@ANI) November 2, 2026
مختلف تہذیبوں کا عالمی سنگم: ڈاکٹر پریتی اڈانی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندرمودی نے اس مقدس شہرکو اپنا پارلیمانی حلقہ منتخب کیا۔ ان کی دوراندیش قیادت میں وارانسی مختلف تہذیبوں کے سنگم اور ہندوستان کی بڑھتی ہوئی عالمی موجودگی کی علامت بن گیا ہے۔ شنزو آبے اور گنگا آرتی: انہوں نے جاپان کے سابق وزیر اعظم شنزو آبے کے کاشی دورے کو یاد کیا۔ انہوں نے بتایا کہ شنزو آبے نے دشاشومیدھ گھاٹ پر بیٹھ کر ویدک منتروں اور مقدس گنگا آرتی کے روحانی تجربے سے لطف اٹھایا تھا۔ ایمانوئل میکرون کا تاریخی کشتی سفر: ڈاکٹر پریتی اڈانی نے فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے کاشی دورے کا بھی ذکر کیا۔ اس موقع پر انہوں نے وزیر اعظم مودی کے ساتھ گنگا کی لہروں پر کشتی کی سیر کرتے ہوئے بنارس کے تاریخی گھاٹوں کی شان و شوکت کا نظارہ کیا تھا۔قدیم اور جدید کے درمیان پل: ڈاکٹر اڈانی نے کہا کہ یہ تاریخی لمحات دنیا کو یاد دلاتے ہیں کہ ہماری قدیم روایات اور دانش صرف ماضی کا حصہ نہیں ہیں، بلکہ وہ اکیسویں صدی کے جدید معاشرے سے بھی براہِ راست مکالمہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
وزیر اعظم مودی کے ثقافتی وژن کا اثر
ڈاکٹر پریتی اڈانی نے بین الاقوامی سطح پر ہندوستانی علم و دانش کو شناخت دلانے کے لیے وزیر اعظم مودی کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی علمی روایت کی سب سے بڑی مثال یوگا ہے، جسے آج پوری دنیا ذہنی اور جسمانی توازن کے لیے قبول کر چکی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کبھی ہندوستانی روایتی کھانوں کا اہم حصہ رہنے والے موٹے اناج، یعنی ملیٹس، آج عالمی سطح پر غذائیت، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور غذائی تحفظ سے متعلق مباحث کا اہم موضوع بن چکے ہیں۔ڈاکٹر اڈانی کے مطابق، مہا اپنشد کے فلسفے ’وسودھیو کٹمبکم‘ یعنی پوری دنیا ایک خاندان ہے، کو ہندوستان نے عالمی سطح پر پیش کیا ہے۔ یہ نظریہ آج تنازعات اور عدم مساوات سے دوچار انسانیت کو صحیح سمت دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
علم طاقت دیتا ہے، دانش راستہ دکھاتی ہے
اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر پریتی اڈانی نے کہا کہ آج دنیا کے پاس غیر معمولی ٹیکنالوجی اور وسائل موجود ہیں، اس کے باوجود جنگ، بدامنی اور ماحولیاتی بحران برقرار ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں کاشی جس طرح اپنی جڑوں اور روایات کو محفوظ رکھتے ہوئے جدید ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے، اسی توازن کی ضرورت آج ہر شعبے میں ہے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ علم ہمیں دنیا کو بدلنے کی طاقت دیتا ہے، لیکن قدیم دانش ہی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ہم دنیا کو بہتر سمت میں تبدیل کریں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

