Bharat Express DD Free Dish

Dr Priti Adani

ڈاکٹر پریتی اڈانی نے کہا کہ اڈانی گروپ ہندوستان کے 2047 تک ترقی یافتہ ملک بننے کے ہدف کی حمایت کے لیے بنیادی ڈھانچے اور توانائی کی منتقلی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر پریتی اڈانی نے کہا کہ آج دنیا کے پاس غیر معمولی ٹیکنالوجی اور وسائل موجود ہیں، اس کے باوجود جنگ، بدامنی اور ماحولیاتی بحران برقرار ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں کاشی جس طرح اپنی جڑوں اور روایات کو محفوظ رکھتے ہوئے جدید ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے، اسی توازن کی ضرورت آج ہر شعبے میں ہے۔

نو راتری کے موقع پر گوتم اڈانی نے جنوبی گجرات میں شریمد راج چندر مشن دھرم پور کا دورہ کیا اور پوجیہ گرو دیو شری راکیش جی سے آشیرواد حاصل کیا۔

یونیورسٹی کے 10 فیکلٹیز کے طلبہ کو مجموعی طور پر 2,320 ڈگریاں دی گئیں، جن میں 123 پی ایچ ڈی کی اسناد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 83 ہونہار طلبہ کو 123 طلائی تمغوں، 7 نقرئی تمغوں اور 13 دیگر اعزازات سے نوازا گیا۔

ڈاکٹر اڈانی نے عالمی سطح پر فنڈز کی تقسیم کی حکمت عملی پر زور دیتے ہوئے ’کیپٹل فار کیپیسٹی‘ یعنی صلاحیت سازی کے لیے سرمایہ کا تصور پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج جب سماجی سرمایہ اور ملکی عطیات تاریخی بلندی پر ہیں، تو اصل چیلنج فنڈز کی کمی نہیں بلکہ ان کی درست اور حکمت عملی کے ساتھ تقسیم ہے۔

اڈانی فاؤنڈیشن اور انوشکا فاؤنڈیشن نے پانچ ریاستوں میں 10 ہزار سے زائد بچوں کو کلب فٹ کے علاج تک بہتر رسائی فراہم کرنے کے لیے شراکت داری کی ہے۔

ڈاکٹر پریتی اڈانی نے فخر کے ساتھ کہا کہ اسکول کے طلبہ آج بحریہ، تعلیم، کاروبار، کھیل اور فنون جیسے مختلف شعبوں میں اپنی شناخت بنا رہے ہیں۔ ان کے مطابق، “ہماری سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ ہم نے کیا بنایا، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے کن لوگوں کو بنایا۔

ڈاکٹر پریتی اڈانی نے کہا کہ ملک کے دور دراز دیہی علاقوں میں آج بھی لڑکیوں کی تعلیم کا معیار انتہائی کم ہے۔ کئی خواتین ایسی ہیں جنہیں اسکول جانے کا موقع تک نہیں ملا، جبکہ اعلیٰ تعلیم ان کے لیے اب بھی ایک خواب ہے۔

اے وی پی این کی سی ای او نینا سُبروال بترا نے کہا: ’’ڈاکٹر پریتی اڈانی کا خطاب جرات مندانہ عمل کی ایک طاقتور اپیل تھی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں غیر یقینی حالات میں بھی اقدام کرنا ہوگا اور ایشیا کے لیے ایک پائیدار اور مساوی مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے حل میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔

اڈانی فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن کو سماجی خدمات میں نمایاں کردار پر دتہ میگھے انسٹی ٹیوٹ آف ہائیر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (DMIHER) کی جانب سے اعزازی ڈگری سے نوازا گیا۔