Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court Collegium: سپریم کورٹ کالجیم نے 4 ہائی کورٹس کے چیف جسٹس کے لیے ججوں کے ناموں کی سفارش کی

کالجیم کا نظام ججوں کی تقرری اور تبادلوں کی سفارش کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ سپریم کورٹ کالجیم امیدواروں کی اہلیت کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات مزید کارروائی کے لیے مرکزی حکومت کو بھیجتا ہے۔تازہ ترین تجاویز کا تعلق چار ہائی کورٹس میں چیف جسٹس کے عہدوں سے ہے۔ تاہم، کالجیم کی سفارشات کو حتمی تقرری نہیں سمجھا جا سکتا۔

نئی دہلی : سپریم کورٹ کالجیم نے گجرات، دہلی، تلنگانہ اور اتراکھنڈ ہائی کورٹس کے چیف جسٹس کے عہدوں پر تقرری کے لیے 4 ہائی کورٹ ججوں کے ناموں کی سفارش کی ہے۔ کالجیم نے 26 اکتوبر 2026 کو سینئر عدالتی عہدوں پر تقرریوں سے متعلق اجلاس کے بعد یہ سفارشات جاری کیں۔ ’بار اینڈ بنچ‘ کی رپورٹ کے مطابق، ان سفارشات میں مختلف ہائی کورٹس میں خدمات انجام دینے والے 4 جج شامل ہیں۔ ان تقرریوں کا مقصد اہم عدالتی عہدوں کو پُر کرنا ہے۔کالجیم نے گجرات ہائی کورٹ میں خدمات انجام دے رہے جسٹس مناش رنجن پاٹھک کو اسی ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کرنے کی سفارش کی ہے۔ وہیں تلنگانہ ہائی کورٹ کے جسٹس پی سام کوشی کو دہلی ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ کلکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس تپابرتا چکرورتی کو تلنگانہ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

 کالجیم نے پٹنہ ہائی کورٹ کے جسٹس سدھیر سنگھ کو اتراکھنڈ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کرنے کی سفارش کی ہے۔ ان سفارشات کے تحت چاروں ہائی کورٹس میں ججوں کی تقرری اور تبادلے کی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ یہ ہائی کورٹس کی سربراہی کے لیے سینئر ججوں کے انتخاب کے عدالتی نظام کے طے شدہ عمل کا حصہ ہیں۔

کالجیم کی سفارشات کے بعد کیا ہوگا؟

کالجیم کا نظام ججوں کی تقرری اور تبادلوں کی سفارش کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ سپریم کورٹ کالجیم امیدواروں کی اہلیت کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات مزید کارروائی کے لیے مرکزی حکومت کو بھیجتا ہے۔تازہ ترین تجاویز کا تعلق چار ہائی کورٹس میں چیف جسٹس کے عہدوں سے ہے۔ تاہم، کالجیم کی سفارشات کو حتمی تقرری نہیں سمجھا جا سکتا۔تقرریوں کے مؤثر ہونے سے پہلے آئینی اور انتظامی طریقۂ کار کے تحت مزید کارروائی ضروری ہے۔ ان مجوزہ تقرریوں کو چاروں ہائی کورٹس کی قیادت میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ متعلقہ جج کب باضابطہ طور پر اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گے، اس بارے میں مزید سرکاری نوٹیفکیشن سے وضاحت ہوگی۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read