Bharat Express DD Free Dish

Saudi Arabia bows to the Houthis: حوثیوں کے سامنے سعودی عرب نے گھٹنے ٹیک دیے؟ جنگ روکنے کے لیے 1 بلین ڈالر کی پیشکش

سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات پر بڑھتے ہوئے حملوں کے درمیان ایران نے سعودی عرب اور حوثیوں کے مابین ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ ان حملوں سے سعودی عرب کو اقتصادی نقصان پہنچا ہے۔ آبنائے ہرمز میں ٹینکروں پر ایرانی حملوں نے بھی خلیجی خطے سے تیل کی برآمدات کو متاثر کیا ہے۔

نئی دہلی : ایران کی حمایت یافتہ حوثی باغی مسلسل سعودی عرب پر حملے کر رہے ہیں۔ ان حملوں کو روکنے میں سعودی عرب کا فضائی دفاعی نظام بھی ناکام ثابت ہو رہا ہے۔ مسلسل حملوں کے درمیان سعودی عرب نے حوثیوں کو بھاری رقم دینے کی پیشکش کی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان حوثیوں کے ساتھ جنگ بندی کرانے کے مقصد سے بات چیت کے لیے تہران گئے تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ پیشکش ایران کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کا حصہ ہے۔ سعودی عرب نے حوثیوں کو 1 بلین امریکی ڈالر دینے کی پیشکش کی ہے۔

سعودی عرب نے پیشکش کی تصدیق نہیں کی

ایک سفارتی ذریعے نے دعویٰ کیا کہ سعودی وزیر دفاع جس ’ہرکیولس‘ فوجی ٹرانسپورٹ طیارے سے تہران پہنچے تھے، اس میں رقم بھی ان کے ساتھ لائی گئی تھی۔ تاہم سعودی عرب کے کسی بھی عہدیدار نے رقم منتقل کیے جانے کی تصدیق نہیں کی ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ ان مذاکرات میں ترکی کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ ابراہیم کالن اور پاکستان کے فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شامل تھے۔ ان کے ساتھ ایران کے عہدیدار بھی موجود تھے، جن میں صدر مسعود پزشکیان، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری جنرل محسن رضائی اور اسلامی انقلابی گارڈ کور کے سینئر عہدیدار شامل تھے۔رپورٹس کے مطابق، سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات پر بڑھتے ہوئے حملوں کے درمیان ایران نے سعودی عرب اور حوثیوں کے مابین ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ ان حملوں سے سعودی عرب کو اقتصادی نقصان پہنچا ہے۔ آبنائے ہرمز میں ٹینکروں پر ایرانی حملوں نے بھی خلیجی خطے سے تیل کی برآمدات کو متاثر کیا ہے۔سعودی وزارت خارجہ نے ایک سرکاری بیان میں اس دورے کے بارے میں کہا، ’’وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک کے نمائندوں کا تہران کا دورہ اس اتحاد کی ان کوششوں کا حصہ ہے، جن کا مقصد موجودہ بحران سے وابستہ فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنا، مذاکرات اور سفارتی حل کو فروغ دینا اور قطر و پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرنا ہے۔‘‘

حوثیوں سے کیا توقع کی گئی تھی؟

اسرائیلی میڈیا سے بات کرتے ہوئے سعودی عرب کے ایک عہدیدار نے مبینہ مالی لین دین کی تصدیق تو نہیں کی، لیکن یہ ضرور کہا کہ حوثیوں کے ساتھ تنازع کا ایک حصہ تین سال پہلے طے پانے والی مفاہمتوں پر عمل درآمد سے متعلق ہے۔ان مفاہمتوں کے تحت، تنازع حل کرنے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر سعودی عرب کو حوثیوں کو براہ راست مالی امداد دینی تھی۔ اس رقم کا مقصد دیگر امور کے علاوہ، حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں سرکاری شعبے کے ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنا اور عام شہریوں کے لیے بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو کرنا تھا۔رپورٹ کے مطابق، اس کے بدلے حوثیوں سے توقع کی گئی تھی کہ وہ جنگ بندی کی پابندی کریں گے اور سعودی عرب پر حملے بند کر دیں گے۔حالیہ مہینوں میں حوثیوں نے اپنے حملوں کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب پہلے طے پانے والی مفاہمتوں سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read