Bharat Express DD Free Dish

Islamic Revolutionary Guard Corps

ایران کا کہنا ہے کہ ان شرائط کی تکمیل تک کسی بھی بحری جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ آبی راستہ دنیا میں تیل کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں شمار ہوتا ہے، اس لیے اس کی بندش نے عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔

ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور اور فوج نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بحرین، کویت اور قطر میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور دیگر عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ تازہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ حالیہ یادداشتِ مفاہمت کی بنیاد پر ساٹھ روز کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کر رہے تھے۔

اسلامی جمہوریہ نیوز ایجنسی کے مطابق تعزیتی تقریبات ہفتہ اور اتوار کو بھی جاری رہیں گی۔ اس دوران مرحوم کا جسدِ خاکی گرینڈ مصلیٰ میں عوامی دیدار کے لیے رکھا جائے گا۔ اس کے بعد پیر کے روز تہران میں جنازے کا جلوس نکالا جائے گا، جبکہ بعد کی مذہبی رسومات مقدس شہر قم میں ادا کی جائیں گی۔

صدر عون نے کہا کہ لبنان کے تمام علاقوں اور تمام برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگ کئی دہائیوں پر محیط تنازعات سے تھک چکے ہیں اور اب استحکام اور امن چاہتے ہیں۔

میزائل داغے جانے کے بعد کیریات شمونہ شہر اور لبنان کی سرحد کے قریب شمال مشرقی اسرائیل کے آٹھ گاؤں میں فضائی حملے کے خطرے کے سائرن بج اٹھے، جس کے باعث ہزاروں رہائشی محفوظ پناہ گاہوں کی جانب منتقل ہو گئے۔

تسنیم نیوز ایجنسی نے فوجی حکام کے حوالے سے بتایا کہ اس جنگی کشتی کی رونمائی آئی آر جی سی نیوی کی جانب سے تیز رفتار اور میزائلوں سے لیس بحری صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔

ایران نے 28 فروری سے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مزید سخت کرتے ہوئے ان جہازوں کو محفوظ راستہ دینے سے انکار کر دیا تھا جن کا تعلق اسرائیل یا امریکہ سے تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ فیصلہ ایرانی علاقوں پر مشترکہ حملوں کے بعد کیا گیا۔

آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ مرحلے کی لڑائی میں امریکہ اور اسرائیل نے اپنی پوری طاقت استعمال کی، لیکن ایران نے ابھی اپنی مکمل عسکری صلاحیت استعمال نہیں کی۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث خطے میں تناؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔