تہران: ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے امریکہ کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران پر حملے جاری رہے تو اس کا ’سخت اور بھرپور جواب‘ دیا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی میزائل لانچ سائٹس اور اسلحہ بردار کشتیوں کو نشانہ بنایا۔
آبنائے ہرمز پر ایران کا سخت کنٹرول
آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 25 جہاز اس کی نگرانی اور سکیورٹی میں بحفاظت آبنائے ہرمز سے گزرے۔ ان میں تیل بردار جہاز، کنٹینر شپ اور دیگر تجارتی بحری جہاز شامل تھے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ان تمام جہازوں نے پہلے اجازت حاصل کی، جس کے بعد انہیں محفوظ راستہ فراہم کیا گیا۔ آئی آر جی سی کی سرکاری نیوز ایجنسی ’سیپا نیوز‘ میں جاری بیان میں کہا گیا کہ ایرانی بحریہ آبنائے ہرمز پر ’اسمارٹ اور سخت کنٹرول‘ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ کسی بھی ’جارحانہ کارروائی‘ کا ’سخت اور طاقتور جواب‘ دیا جائے گا۔
ایران میں امریکی فوج کی کارروائی
اس سے قبل پیر کے روز امریکی فوج نے جنوبی ایران میں میزائل لانچ سائٹس اور سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے والی کشتیوں پر حملہ کیا تھا۔ یہ اطلاع امریکی سینٹرل کمانڈ نے دی۔ سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹِم ہاکنز نے اپنے بیان میں کہا، “امریکی فوج نے آج جنوبی ایران میں اپنے دفاع کے تحت کارروائی کی تاکہ ہمارے فوجیوں کو ایرانی فورسز سے لاحق خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔” انہوں نے بتایا کہ حملوں میں ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں میزائل لانچ کیے جا رہے تھے، جبکہ ان ایرانی کشتیوں کو بھی ہدف بنایا گیا جو سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔
جنگ بندی پر منڈلاتے خطرات
ان حملوں کے بعد پہلے سے کمزور جنگ بندی مزید خطرے میں پڑ گئی ہے۔ 8 اپریل سے نافذ جنگ بندی کے دوران امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کی کوششوں میں مصروف ہیں، تاہم تازہ کشیدگی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس تنازع کے باعث عالمی معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے، خاص طور پر تیل اور توانائی کی سپلائی پر اس کے اثرات نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
بحری ناکہ بندی اور عالمی تجارت متاثر
ایران نے خلیجی خطے میں جہازوں کی نقل و حرکت پر اپنا کنٹرول سخت کر رکھا ہے، جبکہ امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں کے گرد ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے۔ گزشتہ ہفتے امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس بحری ناکہ بندی کے باعث تقریباً 100 جہازوں کو اپنا راستہ تبدیل کرنا پڑا، جبکہ چار جہازوں کو روک لیا گیا۔ ایران نے 28 فروری سے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مزید سخت کرتے ہوئے ان جہازوں کو محفوظ راستہ دینے سے انکار کر دیا تھا جن کا تعلق اسرائیل یا امریکہ سے تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ فیصلہ ایرانی علاقوں پر مشترکہ حملوں کے بعد کیا گیا۔ دوسری جانب امریکہ کی جانب سے جاری بحری ناکہ بندی کے سبب ایرانی بندرگاہوں کی طرف آنے اور جانے والے بحری جہازوں کی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


