Bharat Express DD Free Dish

IRGC

امریکہ کی جانب سے اب تک اس واقعے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ سرکاری حمایت یافتہ ’پریس ٹی وی‘ کی رپورٹ کے مطابق IRGC نے کہا ہے کہ وہ آئندہ چند گھنٹوں کے دوران قبضے میں لیے گئے امریکی آلے کی تصاویر اور تفصیلی ویڈیو فوٹیج جاری کرے گا۔ایرانی میڈیا کے مطابق یہ بغیر پائلٹ زیر آب گاڑی (UUV) پانی کے اندر جاسوسی اور نگرانی، سمندر کی سطح کی نقشہ سازی، سمندری بارودی سرنگوں کا پتہ لگانے اور آبدوزوں کی کیبلز و پائپ لائنز کی جانچ جیسے اہم کاموں کے لیے تیار کی گئی تھی۔

منگل کی رات امریکہ نے ایران پر فضائی حملوں کا ایک اور سلسلہ شروع کیا، جس کے بعد تہران کی فضاؤں میں ایرانی فضائی دفاعی نظام متحرک ہو گیا۔ جوابی کارروائی میں ایران نے اسرائیلی سرحد کے قریب اردن کے ایک شہر پر میزائل حملہ کیا، جس کے بعد بحرین اور سعودی عرب میں بھی ہنگامی انتباہ جاری کر دیا گیا۔

امریکی مرکزی کمان نے کہا تھا کہ بحیرۂ عرب میں امریکی بحریہ اور فضائیہ کے وسائل ایران کے خلاف اعلان کردہ بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد اور ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والی بحری آمدورفت کو محدود کرنے کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔

آئی آر جی سی نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اردن کے الازرق میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے دوران ایف-15، ایف-16 اور ایف-35 لڑاکا طیاروں کے شیلٹرز اور متعدد MQ-9 ڈرون تباہ کیے گئے۔قابل ذکر بات یہ ہےکہ  ایران کے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے،

ایران کے مطابق برطانیہ کا دنیا کے کئی ممالک، بالخصوص مغربی ایشیا کے داخلی معاملات میں مداخلت کا طویل ریکارڈ رہا ہے۔ اس کے علاوہ حالیہ عرصے میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں میں بھی برطانیہ کے تعاون کا الزام عائد کیا گیا۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ حکومتِ ہند اس پورے معاملے پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور متاثرہ بھارتی شہریوں کی حفاظت اور امداد کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور اور فوج نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بحرین، کویت اور قطر میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور دیگر عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ تازہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ حالیہ یادداشتِ مفاہمت کی بنیاد پر ساٹھ روز کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کر رہے تھے۔

تسنیم نیوز ایجنسی نے فوجی حکام کے حوالے سے بتایا کہ اس جنگی کشتی کی رونمائی آئی آر جی سی نیوی کی جانب سے تیز رفتار اور میزائلوں سے لیس بحری صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔

ایران نے 28 فروری سے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مزید سخت کرتے ہوئے ان جہازوں کو محفوظ راستہ دینے سے انکار کر دیا تھا جن کا تعلق اسرائیل یا امریکہ سے تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ فیصلہ ایرانی علاقوں پر مشترکہ حملوں کے بعد کیا گیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ لاپتہ امریکی اہلکار کو محفوظ طریقے سے نکال لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج نے تاریخ کے سب سے جرات مندانہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز میں سے ایک انجام دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے انہیں بچا لیا۔ گزشتہ چند گھنٹوں میں امریکی فوج نے انتہائی جرات مندانہ کارروائی کی۔