Bharat Express DD Free Dish

Hezbollah Fires Missiles at Israeli Aircraft: ’’حزب اللہ نے اسرائیلی طیاروں پر داغے میزائل…‘‘، آئی ڈی ایف نے کی تصدیق

میزائل داغے جانے کے بعد کیریات شمونہ شہر اور لبنان کی سرحد کے قریب شمال مشرقی اسرائیل کے آٹھ گاؤں میں فضائی حملے کے خطرے کے سائرن بج اٹھے، جس کے باعث ہزاروں رہائشی محفوظ پناہ گاہوں کی جانب منتقل ہو گئے۔

تل ابیب: اسرائیلی دفاعی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے حملے کیے گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق، حزب اللہ نے اسرائیلی فضائیہ کے طیاروں کو نشانہ بناتے ہوئے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل داغے۔ حالانکہ، اس واقعے میں نہ کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی کسی طیارے کو نقصان پہنچا۔

سرحدی علاقوں میں خطرے کے سائرن

خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق، میزائل داغے جانے کے بعد کیریات شمونہ شہر اور لبنان کی سرحد کے قریب شمال مشرقی اسرائیل کے آٹھ گاؤں میں فضائی حملے کے خطرے کے سائرن بج اٹھے، جس کے باعث ہزاروں رہائشی محفوظ پناہ گاہوں کی جانب منتقل ہو گئے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل اور لبنان نے بدھ کے روز واشنگٹن میں ہونے والی سہ فریقی بات چیت کے بعد جنگ بندی نافذ کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

لبنانی صدر کی ایران اور حزب اللہ پر تنقید

دوسری جانب، لبنان کے صدر جوزف عون نے امریکہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے دوران لبنان کو سودے بازی کے آلے کے طور پر استعمال کرنے پر ایران کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ لبنان کے عوام جنگ سے تنگ آ چکے ہیں اور اب پُرامن زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ صدر عون نے یہ باتیں ایک انٹرویو میں کہیں، جسے جمعہ کے روز لبنانی صدارتی دفتر نے جاری کیا۔

ایران کی جنگ بندی سے متعلق شرائط

جمعرات کے روز ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ 8 اپریل کے معاہدے کو قبول کرنے کے لیے ایران کی بنیادی شرط لبنان سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی تھی۔

’’یہ آپ کا نہیں، ہمارا ملک ہے‘‘

انٹرویو میں صدر عون نے کہا، ’’یہ آپ کا ملک نہیں، ہمارا ملک ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ علاقائی طاقتوں کی جانب سے اپنے مفادات کے حصول کے لیے لبنان کو استعمال کرنا ناقابل قبول ہے، جبکہ اس کے نتائج لبنان کے شہری موت، بے گھر ہونے اور تباہی کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔

تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر زور

صدر عون نے کہا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان تنازع کے خاتمے کا واحد عملی راستہ مذاکرات ہیں۔ ان کے مطابق، لبنانی ریاست اور حکومت کو حزب اللہ کے مسئلے کا حل ملک کے اندر ہی تلاش کرنا ہوگا۔ اس کے لیے ان بنیادی وجوہات کا خاتمہ ضروری ہے جن کی بنا پر یہ مسلح تنظیم وجود میں آئی، جن میں اسرائیل کا لبنانی علاقوں سے انخلا اور تنازع کا خاتمہ شامل ہے۔

عوام جنگ سے بیزار

صدر عون نے کہا کہ لبنان کے تمام علاقوں اور تمام برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگ کئی دہائیوں پر محیط تنازعات سے تھک چکے ہیں اور اب استحکام اور امن چاہتے ہیں۔ معاہدے کی مخالفت کرنے اور سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے حکومت گرانے کی دھمکی دینے والے نعیم قاسم کے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر عون نے کہا، ’’وہ لبنان کے لوگ ہیں، نہ کہ نعیم قاسم کے لوگ۔‘‘

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read