Bharat Express DD Free Dish

Uttarakhand high court

مولانا ارشد مدنی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم ایسا کوئی قانون قبول نہیں کر سکتے جو شریعت کے خلاف ہو۔ مسلمان ہر چیز سے سمجھوتہ کر سکتا ہے، لیکن اپنے مذہب اور دین سے ہرگز کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ یہ مسئلہ مسلمانوں کے وجود کا نہیں بلکہ ان کے آئینی اور مذہبی حقوق کا ہے۔

اتراکھنڈ ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس پنکج پروہت اورجسٹس منوج کمار تیواری نے یہ فیصلہ صادرکیا۔ مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء ہندنے ملزمین کو قانونی امداد فراہم کی۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے 23 نومبر 2022 کے عبوری حکم کو منسوخ کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ جلنگ اسٹیٹ میں تعمیرات کی اجازت دینے سے معاملے کی حتمی سماعت کے لیے علاقے کی صورتحال بدل سکتی ہے۔

عدالت نے کہا تھا کہ اگر وہ شفٹنگ کی حمایت کرتے ہیں تو وہ آن لائن اپنی ترجیح "ہاں" کہہ کر دے سکتے ہیں اور اگر مخالفت کرتے ہیں تو "نہیں"۔ نینی تال سے نقل مکانی کی سب سے بڑی وجہ جنگلات کے تحفظ کے لیے سپریم کورٹ کی ہدایت بتائی گئی

Haldwani Encroachment News: سادھوی پرگیہ نے اپنے بیان میں کہا 'ہلدوانی میں بڑی تعداد میں روہنگیا مسلمان مقیم ہیں۔ حکومت کو اس پر سخت کارروائی کرنی چاہئے۔ کیونکہ اتراکھنڈ سنتوں کی سرزمین ہے اور دیوتاؤں کی سرزمین ہے، تو یہاں پر روہنگیا کیوں ہیں'۔

یہاں کے مکینوں کے ذہنوں میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ اس علاقے میں بغیر اجازت کے اسپتال اور اسکول کیسے بنائے جاسکتے ہیں۔ عابد شاہ خان، جو 60 سال سے زیادہ عرصے سے وہاں مقیم ہیں