Bharat Express DD Free Dish

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں احتجاج کو حمایت دینے والے کانگریس کے دو ارکان پارلیمنٹ کے خلاف ایف آئی آر، انتظامیہ کی شکایت پر دہلی پولیس نے درج کیا معاملہ

آن لائن کلاسوں سے متعلق جاری ہدایت میں یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبا سے کیمپس نہ آنے کی اپیل کی ہے۔ ساتھ ہی بتایا گیا ہے کہ جامعہ کے گیٹ اورلائبریری اگلے حکم تک بند رہیں گے۔ طلبا کا یہ احتجاج تقریباً دو ہفتے قبل شروع ہوا تھا۔ مظاہرین جامعہ ملیہ اسلامیہ اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی اور طلبہ یونین کے انتخابات کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ جامعہ میں 2006 کے بعد سے طلبہ یونین کے انتخابات نہیں ہوئے ہیں۔

نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ کی شکایت پر دہلی پولیس نے کانگریس کے لوک سبھا رکن پارلیمنٹ عمران مسعود، راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی اور دیگرافراد کے خلاف ایف آئی آردرج کی ہے۔ ان پرالزام ہے کہ وہ اجازت کے بغیریونیورسٹی کیمپس میں داخل ہوئے اور طلبہ یونین کے انتخابات بحال کرنے کے مطالبے پرجاری احتجاج کے دوران بدامنی پھیلائی۔ یونیورسٹی کے ایک افسرنے اتوارکو یہ اطلاع دی۔ اس معاملے میں دہلی پولیس کی جانب سے ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ دوسری طرف، اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) نے الزام لگایا ہے کہ گیٹ نمبر 7 کے باہربڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں نے سیکڑوں طلبا کو حراست میں لے لیا۔ طلبا کا ایک گروپ جامعہ ملیہ اسلامیہ اسٹوڈنٹس یونین (جے ایم آئی ایس یو) کی بحالی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس مطالبے سے متعلق 4 طلبا گزشتہ 13 دن سے بھوک ہڑتال پربیٹھے ہیں۔ ایس ایف آئی نے سوشل میڈیا پرایک پوسٹ کے ذریعہ انتظامیہ کی کارروائی کوطلبا کے خلاف سخت اقدام قراردیا ہے۔

اساتذہ نے طلبا کواحتجاج ختم کرنے کے لیے منانے کی کوشش کی

ہفتہ کے روز سیکورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے جامعہ انتظامیہ نے کلاسیں آن لائن کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یونیورسٹی کے مطابق، اسی دن 1500 سے زیادہ تدریسی اورغیرتدریسی عملے کے ارکان نے احتجاج کررہے طلبا کومنانے کی کوشش کی۔ اس مارچ میں وائس چانسلر پروفیسرمظہرآصف اوررجسٹرارپروفیسر مہتاب عالم رضوی بھی شامل تھے۔ یونیورسٹی کے عملے نے انصاری آڈیٹوریم کے لان سے گیٹ نمبر-7 تک مارچ کیا۔ اس کا مقصد طلبا سے احتجاج ختم کرکے وہاں سے ہٹنے کی اپیل کرنا تھا۔ انتظامیہ کے مطابق، عملے نے تقریباً دوگھنٹے تک بار بارطلبا سے احتجاج ختم کرنے کی درخواست کی، لیکن مظاہرین نے وہاں سے ہٹنے سے انکارکردیا۔

ایس ایف آئی نے طلبا کے ساتھ بدسلوکی کا الزام لگایا

ایس ایف آئی کی جامعہ یونٹ نے الزام لگایا ہے کہ پراکٹر اوررجسٹرارنے سکیورٹی ایڈوائزرکے ساتھ مل کربھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبا کوہٹانے کی کوشش کی۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ اس دوران طلبہ کے خیمے اکھاڑدیئے گئے اورطالبات کوگھسیٹا گیا۔ دوسری طرف، یونیورسٹی انتظامیہ نے الزام لگایا ہے کہ کچھ طلبہ نے سیکورٹی گارڈزاورفیکلٹی اراکین کودھکا دیا۔ اس معاملے میں دونوں جانب سے مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔

طلبا کو کیمپس میں داخل ہونے سے روکنے کا الزام

احتجاج میں شامل ایک طالب علم نے دعویٰ کیا کہ جامعہ کے باہر بڑی تعداد میں پولیس اہلکارتعینات کیے گئے ہیں۔ اس کے مطابق، طلبا کوکیمپس میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے اور کچھ طلبا کوحراست میں بھی لیا جا رہا ہے۔ تاہم، ان الزامات پردہلی پولیس کا سرکاری موقف سامنے آنا ابھی باقی ہے۔

جامعہ کے گیٹ اور لائبریری اگلے حکم تک بند

آن لائن کلاسوں سے متعلق جاری ہدایت میں یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبا سے کیمپس نہ آنے کی اپیل کی ہے۔ ساتھ ہی بتایا گیا ہے کہ جامعہ کے گیٹ اورلائبریری اگلے حکم تک بند رہیں گے۔ طلبا کا یہ احتجاج تقریباً دو ہفتے قبل شروع ہوا تھا۔ مظاہرین جامعہ ملیہ اسلامیہ اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی اور طلبہ یونین کے انتخابات کرانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ جامعہ میں 2006 کے بعد سے طلبہ یونین کے انتخابات نہیں ہوئے ہیں۔ انتظامیہ کی یقین دہانی سے اب 20 سال کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read