نئی دہلی : دہلی میں دیوالی اور دھن تیرس سے قبل یکم نومبر کو رام لیلا میدان میں مجوزہ کانگریس ریلی کو لے کر تجارتی تنظیموں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ تہواروں کے موسم میں پہلے ہی احتجاج اور ٹریفک پابندیوں کے سبب کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔ ایسے میں بڑے پیمانے پر سیاسی ریلی کے انعقاد سے راجدھانی کے کاروبار کو بھاری نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسی کے پیش نظر چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور اس سے پہلے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی درخواست کی ہے۔سی ٹی آئی کے چیئرمین برجیش گوئل نے خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یکم نومبر کو رام لیلا میدان میں ہونے والی ریلی میں تقریباً 10 لاکھ لوگوں کی شرکت کا اندازہ لگایا جا رہا ہے، جب کہ میدان میں تقریباً 50 ہزار لوگوں کے جمع ہونے کی گنجائش ہے۔ ان کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد سے میدان کے آس پاس واقع دہلی کے اہم تھوک بازاروں پر وسیع پیمانے پر اثر پڑ سکتا ہے۔ ان بازاروں میں چاندنی چوک، صدر بازار، کھاری باولی، نیا بازار، دریا گنج، کشمیری گیٹ اور دیگر بڑے تجارتی مراکز شامل ہیں۔
جنتَر منتر کے احتجاج کا حوالہ دے کر تشویش ظاہر کی
برجیش گوئل نے کہا کہ گزشتہ 10 اکتوبر کو جنتَر منتر پر صرف دو سے چار ہزار افراد کے جمع ہونے کے باوجود میٹرو خدمات متاثر ہوئیں، بیریکیڈنگ کی گئی اور دہلی کے 20 سے زیادہ بازار بند ہو گئے تھے۔ ان کے مطابق اگر رام لیلا میدان میں 10 لاکھ افراد جمع ہوتے ہیں تو اس کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں واقع دہلی کے تقریباً 20 بڑے تھوک تجارتی مراکز متاثر ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے بیریکیڈنگ اور راستے بند کیے جانے کی صورت میں روزانہ باہر کی ریاستوں سے دہلی آنے والے تین سے چار لاکھ خریداروں کی آمد متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ مقامی خریدار بھی بھیڑ اور ممکنہ بدنظمی کے خدشے کے باعث بازاروں کا رخ کرنے سے گریز کر سکتے ہیں۔
دھن تیرس سے پہلے کاروبار متاثر ہونے کا خدشہ
تجارتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اکتوبر اور نومبر پورے سال میں کاروبار کے لحاظ سے سب سے اہم مہینوں میں شمار ہوتے ہیں۔ برجیش گوئل کے مطابق دھن تیرس 6 نومبر کو ہے اور اس سے محض چار سے پانچ دن پہلے اتنی بڑی ریلی کے انعقاد سے بازاروں میں خوف اور غیر یقینی کی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ریلی مقررہ تاریخ پر منعقد ہوتی ہے تو دہلی کے کاروبار کو 10,000 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہو سکتا ہے۔ اسی لیے تاجروں نے کانگریس قیادت سے اپیل کی ہے کہ ریلی کو چند دنوں کے لیے ملتوی کرکے دیوالی کے بعد منعقد کیا جائے۔
تاجروں کو ملازمین کے بونس کی ادائیگی کا بھی دباؤ
کشمیر ی گیٹ کی تجارتی تنظیم اے پی ایم اے کے صدر ونئے نارنگ نے بھی آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہلی کے تاجر 2 اکتوبر سے مختلف وجوہات کی بنا پر مسلسل نقصان اٹھا رہے ہیں۔ تہواروں کے موسم میں تاجروں کو اپنے ملازمین اور مزدوروں کو بونس بھی دینا ہوتا ہے، لیکن فروخت متاثر ہونے کے سبب ان پر مالی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ونئے نارنگ نے کہا کہ اگر یکم نومبر کو بڑی ریلی منعقد ہوتی ہے تو باہر کی ریاستوں سے آنے والے تاجر اور خریدار دہلی آنے سے گریز کر سکتے ہیں۔ بیریکیڈنگ اور ٹریفک پابندیوں کے سبب کاروبار متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ رام لیلا میدان نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع ہے، اس لیے خدشہ ہے کہ کئی گاہک اور تھوک خریدار اپنے سفر منسوخ کر دیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ جو خریدار اس دوران دہلی نہیں آئیں گے، ضروری نہیں کہ وہ بعد میں خریداری کے لیے واپس بھی آئیں۔ ممکن ہے کہ وہ اپنے مقامی بازاروں یا دوسرے شہروں سے سامان خرید لیں، جس سے دہلی کے تاجروں کو مستقل نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔تجارتی تنظیموں نے ایک بار پھر کانگریس قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ ریلی کو دیوالی کے بعد منعقد کیا جائے، تاکہ تہواروں کے اہم کاروباری موسم میں تاجروں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



