Bharat Express DD Free Dish

Ramlila Maidan

تجارتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اکتوبر اور نومبر پورے سال میں کاروبار کے لحاظ سے سب سے اہم مہینوں میں شمار ہوتے ہیں۔ برجیش گوئل کے مطابق دھن تیرس 6 نومبر کو ہے اور اس سے محض چار سے پانچ دن پہلے اتنی بڑی ریلی کے انعقاد سے بازاروں میں خوف اور غیر یقینی کی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔

اپنی پوسٹ کے آخر میں راہل گاندھی نے بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور اس کے ساتھی اس پروگرام کی زور و شور سے تشہیر کر رہے ہیں اور اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔راہل گاندھی نے لکھا، ’’بی جے پی اور اس کے ساتھیوں کا دل سے شکریہ، جو اس پروگرام کی اتنے جوش و خروش سے تشہیر کر رہے ہیں اور اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔

سینٹرل دہلی کے ڈی سی پی روہت راجبیر سنگھ نے کہا کہ کانگریس کے نمائندوں کو بتایا گیا تھا کہ اس مدت کے دوران یہ مقام خالی ہے۔ اس کے بعد وہ پولیس سے رابطے میں آئے۔ انہوں نے کہا، ’’ہماری ان سے مسلسل بات چیت چل رہی تھی۔ تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے کانگریس کو این او سی منظور کر دی ہے، جس کے بعد پارٹی اپنی تیاریاں شروع کرے گی۔

رام لیلا میدان، براری میدان اور سی بی ڈی میدان کو احتجاجی مقامات کے طور پر کیا گیا مقرر، تقریباً 33 سال بعد جنتر منتر کو فہرست سے ہٹایا گیا

شری رام سینا دھرمارتھ سیوا نیاس کے صدر گریش پانڈے اور پنڈت موہن شاستری نے کہا کہ ریلی کے بعد رام لیلا میدان میں شدھی کرن ہَون کیا گیا۔ ان کا الزام ہے کہ ریلی کے دوران مذہبی نعروں اور تبصروں سے میدان کی پاکیزگی متاثر ہوئی ہے۔

رام لیلا میدان میں منعقدہ اس ریلی میں خواتین کارکنان کی بڑی تعداد دیکھنے کو ملی۔ ملک کے مختلف حصوں سے خواتین رہنما اور کارکن دہلی پہنچے۔ ریلی کے دوران خواتین کانگریس کارکنان میں خاصا جوش اور ولولہ نظر آیا۔

کانگریس لیڈروں کا کہنا ہے کہ کرناٹک، جموں و کشمیر سمیت مختلف ریاستوں سے کارکن دہلی پہنچ رہے ہیں۔ کرناٹک کانگریس کے صدر اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ اس سے راہل گاندھی کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کو مزید تقویت ملے گی۔

کانفرنس کے موقع پر کانفرنس کے دوش بدوش احترام انسانیت اور مذاہب عالم کے عنوان پر دوروزہ قومی سیمینار بھی منعقد  ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ مرکزی جمیعت اہل حدیث ہند سےاردو، ہندی اور انگریزی زبانوں میں کثیر تعداد میں شائع ہونے والے جرائد و رسائل کے خصوصی نمبرات اور متعدد تاریخی اورعلمی و تحقیقی کتابوں کا اجراء بھی عمل میں آئے گا۔

کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے انڈیا الائنس کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک کو بچانے، ملک کی یکجہتی کو بچانے، جمہوریت کو بچانے اور آئین کو بچانے کے لیے اتنے سارے لیڈر ایک پلیٹ فارم پر آئے ہیں۔

جے رام رمیش نے کہا، ''یہ کسی خاص شخص کی ریلی نہیں ہے۔ اسی لیے اسے جمہوریت بچاؤ ریلی کہا جا رہا ہے۔ یہ کسی ایک پارٹی کی ریلی نہیں ہے، اس میں تقریباً 27-28 پارٹیاں شامل ہیں۔