نئی دہلی: ملک کی راجدھانی دہلی میں ان دنوں سیاسی اور قانونی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کی قومی صدر نیہا بورا نے دہلی پولیس کے اس بانڈ نوٹس کو براہ راست دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے، جس میں ان سے امن برقرار رکھنے کے لیے 10 ہزار روپے کا ذاتی مچلکہ اور ضمانتی پیش کرنے کو کہا گیا تھا۔ اس معاملے میں وکلا کی ٹیم ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس کے سامنے فوری سماعت کی درخواست پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے، حالانکہ اس ہفتے ہائی کورٹ میں تعطیلات ہیں۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
یہ تنازع 16 اکتوبر کو کناٹ پلیس میں ہونے والے ’لہرا دو ترنگا‘ احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعات سے جڑا ہے۔ احتجاج کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے نیہا بورا کو حراست میں لیا تھا۔ اس کے بعد دہلی پولیس نے 18 اکتوبر کو ایک نیا نوٹس جاری کیا، جس میں نیہا بورا کو اسپیشل ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہونے اور بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعات 126 اور 130 کے تحت مچلکہ بھرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ تاہم، نیہا بورا کے وکلا نے واضح کردیا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے مچلکے پر دستخط نہیں کریں گی۔ آئیسا کا کہنا ہے کہ پولیس کا یہ نوٹس پوری طرح مبہم اور حقائق کے برعکس ہے، نیز یہ آئین کے آرٹیکل 19 اور 21 کے تحت حاصل آزادی اظہار اور شخصی آزادی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
سادہ لباس میں پیچھا کرنے کا الزام
ہائی کورٹ میں دائر عرضی میں نیہا بورا نے انتہائی سنگین الزامات لگائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 16 اکتوبر کو رہائی کے بعد سے ہی دہلی پولیس کے اہلکار سادہ لباس میں مسلسل ان کا پیچھا کر رہے ہیں اور انہیں ذہنی طور پر خوف زدہ کرنے اور دھمکانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ طلبہ تنظیموں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا کسی نوجوان طالب علم لیڈر کو اس طرح پریشان کرنا پولیس کا نیا طریقہ کار بن گیا ہے؟ اب سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ دہلی ہائی کورٹ اس معاملے میں فوری سماعت کے مطالبے پر کیا موقف اختیار کرتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


