سی جے پی کے لیڈروں آشوتوش رانکا اور سورَو داس کی رہائی کا معاملہ قانونی پیچیدگیوں میں پھنس گیا ہے۔ ضمانت اور تصدیق کی کارروائیاں مکمل ہونے کے باوجود ضمانتی مچلکوں کے معاملے میں رکاوٹیں سامنے آئیں۔ اب اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ (ایس ای ایم) کو دھمکی دینے کے الزامات کے بعد دونوں کی رہائی مزید تاخیر کا شکار ہو گئی ہے۔ دہلی پولیس نے مندر مارگ واقع اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ کو دھمکی دیے جانے کے معاملے میں نامعلوم افراد کے خلاف نان کاگنیزیبل رپورٹ (این سی آر) درج کی ہے۔ پولیس کے مطابق، یہ دھمکی سورَو داس کی ضمانت سے متعلق سماعت کے سلسلے میں دی گئی تھی۔ سی جے پی نے گزشتہ روز الزام لگایا تھا کہ ایس ای ایم نے سماعت کی صدارت نہیں کی، کیونکہ ان کا دعویٰ تھا کہ سی جے پی کے کسی رکن نے انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی ہے۔ تاہم، سی جے پی کا کہنا ہے کہ اس مبینہ دھمکی کا آشوتوش رانکا اور سورَو داس کی ضمانت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایس ای ایم کی جانب سے موصولہ شکایت کی بنیاد پر پولیس نے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔
تمام کارروائیاں مکمل تھیں، پھر بھی ہماری بات نہیں سنی گئی: رتنا سنگھ
اس معاملے پر سی جے پی کی قانونی امور کی سربراہ رتنا سنگھ نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ صبح سے ہی عدالت کے احاطے میں موجود تھیں اور انہیں دوپہر 12 بجے سماعت کا وقت دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق، گزشتہ چار دنوں سے مسلسل سماعت کی تاریخیں دی جا رہی تھیں۔ رتنا سنگھ نے کہا، ’’آج دوپہر 12 بجے تک ضمانتیوں کی تصدیق اور فکسڈ ڈپازٹ (ایف ڈی) کی منظوری سمیت تمام رسمی کارروائیاں مکمل ہو چکی تھیں۔ اس کے باوجود ہم گھنٹوں انتظار کرتے رہے۔ شام تقریباً 5 بجے جب سماعت شروع ہوئی تو ہمیں امید تھی کہ سورَو اور آشوتوش کی عدالتی حراست سے رہائی کے معاملے پر قانونی نکات کی بنیاد پر سماعت ہوگی۔ لیکن اچانک سرکاری وکیل نے دھمکی آمیز پیغامات موصول ہونے کا معاملہ اٹھا دیا۔‘‘
تیسرے شخص کے پیغامات کی بنیاد پر رہائی روکنا غلط: رتنا سنگھ
رتنا سنگھ نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے وکلا نے عدالت سے واضح طور پر کہا تھا کہ اگر کسی نے دھمکی دی ہے تو اس شخص کے خلاف کارروائی کی جائے اور اس کا نام اور فون نمبر عدالتی حکم کی نقل میں درج کیا جائے۔ لیکن اس معاملے کا سورَو داس اور آشوتوش رانکا کی رہائی سے کیا تعلق ہے؟انہوں نے کہا، ’’کسی تیسرے شخص کے پیغامات کی بنیاد پر کسی کی آزادی کو غیر معینہ مدت تک روک کر رکھنا بالکل درست نہیں ہے۔ عدالت میں اصل معاملہ پیچھے رہ گیا اور چند ہی منٹ بعد مجسٹریٹ اٹھ کر چلے گئے۔ سورَو اور آشوتوش اب بھی تہاڑ جیل میں ہیں۔ ہم اپنے وکلا اور قانونی مشیروں سے بات چیت کے بعد آئندہ قانونی اقدامات کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔‘‘
سی جے پی کا حکومت پر رہائی میں تاخیر کا الزام
سی جے پی کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی اس معاملے پر ردعمل ظاہر کیا گیا۔ پوسٹ میں کہا گیا، ’’حکومت جان بوجھ کر آشو اور سورَو کی مبینہ غیر قانونی گرفتاری کو طول دے رہی ہے۔ عدالت کی کارروائی میں تاخیر کرنے اور ان کی رہائی روکنے کے لیے ہر غلط حربہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے پاس دونوں کو سلاخوں کے پیچھے رکھنے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے، اسی لیے انہیں جیل میں رکھنے کے لیے تاخیری طریقے اپنائے جا رہے ہیں۔‘‘ دوسری جانب، مجسٹریٹ کو دھمکی دیے جانے کے معاملے میں پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف رپورٹ درج کر کے کارروائی شروع کر دی ہے۔ آشوتوش رانکا اور سورَو داس کی رہائی کے لیے اب آئندہ قانونی کارروائی کا انتظار ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




