بالی ووڈ اور پنجابی موسیقی کی صنعت سے وابستہ ستاروں کی سکیورٹی پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں کئی معروف فنکاروں اور ان سے وابستہ ٹھکانوں پر گولی باری کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ ان میں کئی مرتبہ لارنس بشنوئی گینگ کا نام بھی سامنے آیا ہے۔ سلمان خان کے گھر کے باہر فائرنگ سے لے کر کینیڈا میں پنجابی گلوکاروں کے گھروں پر حملوں تک، ان واقعات نے فلم اور موسیقی کی صنعت میں تشویش بڑھا دی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ بعض معاملات میں سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے حملوں کی ذمہ داری لینے کے دعوے کیے گئے، ساتھ ہی فنکاروں کو دھمکیاں بھی دی گئیں۔ کہیں سلمان خان سے قربت کو وجہ بتایا گیا، تو کہیں دیگر وجوہات کا دعویٰ کیا گیا۔ آئیے، ان مشہور معاملات پر نظر ڈالتے ہیں جن میں بڑے ستاروں یا ان سے وابستہ مقامات کو نشانہ بنائے جانے کی خبریں سامنے آئیں۔
روہت شیٹی کے گھر کے باہر چلیں گولیاں
فلم ساز روہت شیٹی کے ممبئی کے جوہو علاقے میں واقع گھر کے باہر 31 جنوری 2026 کی رات فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ خبروں کے مطابق، رات تقریباً 12:45 بجے سے صبح پونے 4 بجے کے درمیان پانچ راؤنڈ گولیاں چلائی گئیں۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھے۔ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے لارنس بشنوئی گینگ سے وابستہ بتائے جانے والے شبھم لونکر، ارجو بشنوئی، ہری باکسر اور ہرمن سندھو نے حملے کی ذمہ داری لینے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس واقعے نے فلمی صنعت میں ستاروں کی حفاظت کو لے کر تشویش مزید بڑھا دی۔
کینیڈا میں کپل شرما کے کیفے پر فائرنگ
کامیڈین کپل شرما بھی اس طرح کے واقعات کے حوالے سے خبروں میں رہے ہیں۔ سال 2025 میں کینیڈا میں واقع ان کے ’کیپس کیفے‘ پر فائرنگ کی خبر سامنے آئی تھی۔ اس حملے کی ذمہ داری گینگسٹر گولڈی ڈھلون اور کلبیر سدھو نیپالی نے لینے کا دعویٰ کیا تھا۔ ان کے بارے میں کہا گیا کہ ان کے تعلقات لارنس بشنوئی گینگ سے ہیں۔ بتایا گیا کہ حملے کے پیچھے کپل شرما کے سلمان خان سے تعلقات اور اپنے شو میں سلمان خان کو مدعو کرنے کو وجہ قرار دیا گیا تھا۔ تاہم، گینگ کی جانب سے کیے گئے ایسے دعوؤں کو تحقیقات میں سامنے آنے والے حقائق سے الگ رکھ کر دیکھنا ضروری ہے۔
گرو رندھاوا کی جم فرنچائز کے باہر فائرنگ
پنجابی موسیقی کی صنعت کے معروف گلوکار گرو رندھاوا سے وابستہ ایک جم فرنچائز بھی فائرنگ کے واقعے کے باعث سرخیوں میں آئی تھی۔ دہلی کے مغربی وہار میں واقع ’24 آورز فٹنس جم‘ کے باہر موٹر سائیکل پر آئے دو نقاب پوش افراد نے صبح تقریباً 5 بجے سات راؤنڈ گولیاں چلائی تھیں۔ فائرنگ سے جم کے شیشے ٹوٹ گئے اور آس پاس کے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اس معاملے میں سوشل میڈیا پوسٹ اور ایک آڈیو کلپ کے ذریعے لارنس بشنوئی گینگ سے وابستہ افراد نے ذمہ داری لینے کا دعویٰ کیا تھا۔ ان میں انیل پنڈت کا نام بھی سامنے آیا۔ مبینہ طور پر گرو رندھاوا کے سلمان خان کے قریب ہونے کو حملے کی وجہ بتایا گیا تھا۔
گپی گریوال کے کینیڈا والے گھر کو بنایا گیا نشانہ
پنجابی فلموں اور گانوں کے معروف فنکار گپی گریوال کے کینیڈا میں واقع بنگلے پر بھی فائرنگ کا واقعہ سامنے آیا تھا۔ یہ واقعہ 26 اور 27 نومبر 2023 کی درمیانی شب وینکوور کے علاقے میں پیش آیا تھا۔ اس معاملے میں بھی لارنس بشنوئی گینگ نے سوشل میڈیا کے ذریعے ذمہ داری لینے کا دعویٰ کیا تھا۔ سامنے آنے والی دھمکی میں گپی گریوال کو سلمان خان سے اپنی قربت کم کرنے کا مشورہ دیے جانے کی بات کہی گئی تھی۔ اس واقعے نے کینیڈا میں مقیم ہندوستانی فنکاروں کی سکیورٹی کے حوالے سے بھی تشویش بڑھا دی تھی۔
اے پی ڈھلوں کے گھر کے باہر بھی ہوئی تھی فائرنگ
پنجابی موسیقی کی صنعت کے معروف گلوکار اے پی ڈھلوں کے کینیڈا میں واقع گھر کے باہر بھی فائرنگ کی خبر سامنے آئی تھی۔ اس واقعے کی ذمہ داری سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے لارنس بشنوئی گینگ سے وابستہ بتائے جانے والے روہت گودارا اور گولڈی برار کے نیٹ ورک نے لینے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس معاملے میں جاری دھمکی میں اے پی ڈھلوں کے سلمان خان کے ساتھ سابقہ تعلقات کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ایک بار پھر یہ سوال اٹھا کہ کیا تفریحی صنعت سے وابستہ فنکاروں کو ان کے ذاتی تعلقات یا عوامی شناخت کی وجہ سے نشانہ بنائے جانے کا خطرہ بڑھ رہا ہے؟
اداکاروں کی سکیورٹی کے سلسلے میں بڑھتی تشویش
ان واقعات پر نظر ڈالیں تو بالی ووڈ سے لے کر پنجابی موسیقی کی صنعت تک، کئی فنکاروں اور ان سے وابستہ مقامات پر حملوں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ بعض معاملات میں بیرون ملک واقع گھروں اور کاروباری مقامات کو نشانہ بنائے جانے کی بات بھی سامنے آئی۔ سوشل میڈیا پر ذمہ داری لینے کے دعوؤں اور دھمکیوں نے ان معاملات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ تاہم، کسی گینگ کی جانب سے حملے کی ذمہ داری لینے کا دعویٰ اپنے آپ میں اس معاملے کا حتمی ثبوت نہیں ہوتا۔ ہر واقعے میں تحقیقات کے نتائج اور پولیس کی سرکاری معلومات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

