نئی دہلی: چیف جسٹس سوریہ کانت نے کانگریس لیڈروں راہل گاندھی، ملیکارجن کھڑگے اور دیگر کو ملاقات کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اپوزیشن لیڈروں نے مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں، ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل اور مظاہرین کے خلاف پولیس کی کارروائی پر تشویش ظاہر کرنے کے لیے چیف جسٹس سے ملاقات کا وقت مانگا تھا۔ راہل گاندھی کو ملاقات کا وقت دینے سے انکار کرتے ہوئے چیف جسٹس کے دفتر نے ای میل کے ذریعے اس فیصلے کی کئی وجوہات بھی بتائیں۔
سی جے آئی کے دفتر نے ای میل میں کیا کہا؟
چیف جسٹس کے دفتر کی جانب سے بھیجی گئی ای میل میں کہا گیا کہ ایس آئی آر سے متعلق معاملہ عدالت میں عدالتی کارروائی کے تحت زیر غور ہے اور چیف جسٹس سوریہ کانت خود اس کی سماعت کرنے والی بنچ کی سربراہی کر رہے ہیں۔ ای میل میں واضح کیا گیا کہ چیف جسٹس انتظامی حیثیت سے ایسی ملاقات کے بارے میں کوئی ہدایت جاری نہیں کر سکتے۔ دفتر کے مطابق، اگر راہل گاندھی اور ملیکارجن کھڑگے اس معاملے پر اپنا موقف رکھنا چاہتے ہیں تو وہ عرضی دائر کر سکتے ہیں۔ یہ معاملہ منگل کے لیے فہرست میں شامل ہے، اس لیے وہ اگلے دن بھی عرضی داخل کر سکتے ہیں، جس پر غور کیا جائے گا۔ ای میل میں مزید کہا گیا کہ لیڈر اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے عدالتی کارروائی کے تحت عدالت سے رجوع کرنے کے لیے آزاد ہیں۔
Tomorrow, 12th October, India marches peacefully as one to the Supreme Court.
Students, civil society organisations, Opposition parties: Please join us to defend our democracy.
#ChaloDilli https://t.co/0daRmwxOoX
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) October 11, 2026
راہل گاندھی نے مارچ کا اعلان کیا
اس سے قبل راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ ملک کے نوجوان پرامن احتجاج کے لیے گزشتہ روز دہلی کی سڑکوں پر اترے تھے۔ ان کے دلوں میں محبت تھی، نفرت یا غصہ نہیں، لیکن اس کے باوجود پولیس اور بی جے پی کے غنڈوں نے انہیں مارا پیٹا۔ راہل گاندھی نے کہا، ’’ہم ایسا ہندوستان نہیں چاہتے۔‘‘ انہوں نے مزید اعلان کیا کہ پیر، 12 اکتوبر کو وہ بطور ہندوستانی سپریم کورٹ تک مارچ کریں گے۔ ان کے مطابق، اس مارچ میں سیاسی جماعت، جنس، ذات، برادری اور ریاست کی تمام تفریق سے اوپر اٹھ کر لوگ متحد ہو کر آگے بڑھیں گے۔
دہلی میں احتجاجی مظاہروں پر پابندیاں
احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر دہلی کے کئی علاقوں میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 نافذ کی گئی ہے۔ اس کے تحت بغیر اجازت اجتماعات اور مظاہروں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ پولیس حکام نے اس اقدام کی وجہ عوامی تحفظ اور املاک کی حفاظت بتائی ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن پارٹیاں مسلسل الیکشن کمیشن کے کام کاج اور ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل پر سوال اٹھا رہی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




