Bharat Express DD Free Dish

CJP Press Conference: سی جے پی کی پریس کانفرنس میں الیکشن کمیشن، مرکزی حکومت اور دہلی پولیس پر اٹھے سوال، حکومت کے خاتمے کا دعویٰ

سی جے پی کے شریک کنوینر اور ترجمان آشوتوش رانکا نے کہا کہ گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران ملک میں ایسے کئی واقعات پیش آئے ہیں، جن کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ہے۔

نئی دہلی: کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے اتوار کو دہلی کے پریس کلب میں پریس کانفرنس کی گئی۔ اس دوران سی جے پی کے شریک کنوینر اور ترجمان آشوتوش رانکا نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، مرکزی حکومت اور دہلی پولیس پر کئی سنگین الزامات عائد کیے۔

الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر پر الزامات

سی جے پی کے شریک کنوینر اور ترجمان آشوتوش رانکا نے کہا کہ گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران ملک میں ایسے کئی واقعات پیش آئے ہیں، جن کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ہے۔ آشوتوش رانکا نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ملک کو بچانے اور آگے بڑھانے کی ہے، لیکن اس نے سمجھوتہ کر لیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو کامیاب بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

انتقال کی اطلاع پر دہلی پولیس کے رویے پر سوال

آشوتوش رانکا نے کہا کہ ہفتے کے روز ابھیجیت کی دادی کا انتقال ہو گیا تھا۔ ان کے مطابق، جب ابھیجیت کو اس بارے میں اطلاع دی گئی، تب بھی دہلی پولیس نے غیر انسانی رویہ اختیار کیا۔ آشوتوش رانکا نے کہا، ’’جب انہیں ان کی دادی کی موت کے بارے میں بتایا گیا تو دہلی پولیس نے انتہائی غیر انسانی انداز میں برتاؤ کیا۔ مجھے شرم آتی ہے کہ ملک کے دارالحکومت کی پولیس نے اس طرح کا رویہ اختیار کیا۔ جب دیپکے کو ان کی دادی کی موت کی اطلاع دی گئی، تب بھی دہلی پولیس کے اہلکار کیمرے اور مائیک لے کر وہاں کھڑے تھے۔ انہوں نے اس واقعے کو بھی تماشا بنانے کی کوشش کی۔‘‘

درخواست کے باوجود پولیس پر بے حسی کا الزام

آشوتوش رانکا نے بتایا کہ دیپکے بار بار کہہ رہے تھے کہ ان کے والدین جلد گھبرا جاتے ہیں اور وہ دل کے مریض ہیں۔ انہوں نے پولیس سے درخواست کی کہ انہیں اپنے کزن سے بات کرنے دی جائے، جو اس وقت گاؤں میں موجود تھا۔ وہ اس سے بات کرکے صورت حال کو سمجھنا چاہتے تھے، لیکن ان کے مطابق دہلی پولیس کا دل نہیں پسیجا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ کسی قریبی شخص کے انتقال کے بعد بھی لوگ پوری طرح بے حس ہو گئے ہیں۔

چار سابق وزرائے اعلیٰ کی حمایت پر اظہار تشکر

آشوتوش رانکا نے کہا، ’’جس طرح کل چار سابق وزرائے اعلیٰ اروند کیجریوال، ممتا بنرجی، مانک سرکار اور پنارائی وجین ملک کے طلبہ اور نوجوانوں کے ساتھ سڑکوں پر اترے اور ملک کے لوگوں کی جمہوریت کو بچانے کے لیے جدوجہد کی، اس کے لیے ہم دل سے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘‘

حراست کے دوران الگ الگ مقامات پر رکھنے کا دعویٰ

دوسری جانب، سورَو داس نے الزام لگایا کہ حراست کے دوران انہیں آر کے پورم پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا تھا، جبکہ آشوتوش رانکا اور ابھیجیت دیپکے کو کسی دوسری جگہ رکھا گیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ تینوں افراد کو الگ الگ مقامات پر رکھا گیا۔ سورَو داس نے خدشہ ظاہر کیا کہ پولیس نے ان کے موبائل فون قبضے میں لے کر ان میں شواہد شامل کیے ہوں گے۔ انہوں نے یہ شبہ بھی ظاہر کیا کہ پولیس نے ان کے فون کی جانچ کی ہے۔ سورَو داس نے کہا، ’’ملک بھر میں ایمرجنسی جیسے کھلے حالات ہیں۔ اس طرح کے حالات آخری بار 1975 میں آمرانہ دور حکومت کے دوران دیکھے گئے تھے۔‘‘

دہلی کو چھاؤنی میں تبدیل کرنے کرنے کا دعویٰ

سورَو داس نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ تین سے چار دنوں کے دوران پیش آنے والے واقعات کے بعد پوری دہلی کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، 30 ہزار سے 40 ہزار سکیورٹی اہلکاروں کو بلایا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نکسل متاثرہ علاقوں، مغربی بنگال اور کشمیر سے اہلکاروں کو دہلی لایا گیا ہے، جبکہ سرحدی علاقوں سے بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے جوانوں کو ہوائی جہاز کے ذریعے دہلی پہنچایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 40 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں اور شہر میں سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔

ٹرینوں کی منسوخی سے عام لوگوں کو مشکلات

سورَو داس نے کہا کہ یہ صورت حال بڑے مسائل پیدا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، اگر مظاہرین اور تحریک کے خلاف منفی ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس سے صرف مظاہرین ہی نہیں، بلکہ ان عام شہریوں کو بھی پریشانی ہوتی ہے جو شاید احتجاج میں حصہ بھی نہیں لے رہے ہوتے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس سے تحریک کی منفی تصویر پیش کی جا رہی ہے اور دہلی میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔

سورَو داس نے کہا کہ 57 میٹرو اسٹیشنوں کو بند کرنا، دوسری ریاستوں سے دہلی آنے والی ٹرینوں کو روکنا، راجدھانی ایکسپریس کو منسوخ کرنا اور دکانیں بند کرانا، ان تمام اقدامات سے عام لوگوں کی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا، ’’آج اتوار ہے اور بہت سے لوگ معمول کے مطابق اپنے کام سے باہر نکلتے۔ دکانیں بند کرانے کا کیا مطلب ہے؟‘‘

حکومت کے خاتمے کا دعویٰ

آخر میں سورَو داس نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت کا خاتمہ قریب ہے۔ انہوں نے حکومت پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو بچانے کا الزام بھی عائد کیا۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read