سعودی عرب کی راجدھانی ریاض میں واقع کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہوئے بھیانک حملے میں بھاری جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ اس حملے میں کم از کم 12 افراد کی موت ہوگئی، جبکہ 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ریاض میں واقع ہندوستانی سفارت خانے نے تصدیق کی ہے کہ اس حملے میں کم از کم 11 ہندوستانی شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔ واقعے کے بعد سے ہندوستانی سفارت خانہ سعودی عرب کے مقامی حکام اور اسپتالوں کے انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
ہندوستانی سفارت خانہ زخمیوں کی حالت پر نظر رکھے ہوئے ہے
ہندوستانی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ہفتہ کو ہوئے اس حملے کے فوراً بعد سے ہی وہ صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ سفارت خانے کے مطابق ’’موصولہ اطلاعات کے مطابق، اس حملے میں 11 ہندوستانی شہری زخمی ہوئے ہیں۔ سفارت خانہ ان کی صحت اور علاج سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے مقامی انتظامیہ اور اسپتالوں کے حکام سے مسلسل رابطے میں ہے۔ مزید تفصیلات دستیاب ہونے پر انہیں شیئر کیا جائے گا۔‘‘
ہندوستانی وزارت خارجہ نے حملے کی سخت مذمت کی
ریاض ایئرپورٹ کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کے واقعات پر ہندوستانی حکومت نے سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ وزارت خارجہ (ایم ای اے) نے ایک بیان جاری کرکے کہا ’’ہم گزشتہ چند دنوں سے ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنا کر کیے جانے والے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ ان میں 10 اکتوبر کو کیا گیا بزدلانہ حملہ بھی شامل ہے۔‘‘
ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت
وزارت خارجہ نے کہا کہ شہری بنیادی ڈھانچے پر اس طرح کے حملوں میں بے گناہ لوگوں کی جانیں گئی ہیں، سیکڑوں شہری زخمی ہوئے ہیں اور سرکاری و عوامی املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ ہندوستان نے ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے گہری تعزیت کا اظہار کیا ہے اور تمام زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک خواہشات ظاہر کی ہیں۔ خلیجی خطے میں مقیم ہندوستانی برادری کی سلامتی کے پیش نظر سفارت خانے نے الرٹ بھی جاری کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




