نئی دہلی : کانگریس کی سب سے بڑی پالیسی ساز اکائی کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی سمیت پارٹی کے کئی سینئر رہنما شریک ہوئے۔ اجلاس میں بھوپیش بگھیل، کے سی وینوگوپال، مکل واسنک، امبیکا سونی اور کماری شیلجا سمیت کانگریس ورکنگ کمیٹی کے ارکان بھی موجود رہے۔ کانگریس کی حکومت والی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو بھی اجلاس میں مدعو کیا گیا۔
ووٹر لسٹ اور ایس آئی آر پر کھرگے کے الزامات
سی ڈبلیو سی کے اجلاس میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) اور ووٹر لسٹوں کے معاملے پر الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات عائد کیے۔ کھرگے نے کہا کہ مودی حکومت ملک میں جمہوری نظام کی مضبوط بنیاد کو کمزور کر رہی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ ایک سازش کے تحت ووٹر لسٹوں سے نام حذف کیے جا رہے ہیں۔ کھرگے نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو بھی نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ مودی حکومت کی ’کٹھ پتلی‘ بن گئے ہیں۔
’12 سال میں جمہوریت کی مضبوط بنیاد کو کھوکھلا کیا‘
ملکارجن کھرگے نے کہا کہ ان کے پیش روؤں نے قربانی اور ایثار کے ذریعے ملک میں مضبوط جمہوری نظام کی بنیاد رکھی تھی۔ ان کے مطابق مودی حکومت نے گزشتہ 12 برسوں میں اس بنیاد کو ’سازش کے ذریعے کھوکھلا‘ کر دیا ہے۔انہوں نے دستور ساز اسمبلی میں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے حق رائے دہی سے متعلق خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی اہل شہری کو کسی افسر کی من مانی یا مقامی انتظامیہ کے تعصب کی بنیاد پر ووٹر لسٹ سے باہر نہیں کیا جانا چاہیے۔
’چیف الیکشن کمشنر پر ملک کیسے اعتماد کرے؟‘
کانگریس صدر نے کہا کہ آئین نے الیکشن کمیشن کو عوام کے ووٹ کا ’چوکیدار‘ بنایا ہے، لیکن آج یہی ادارہ سوالات کے گھیرے میں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن کے 2 ارکان نے چیف الیکشن کمشنر کی کارکردگی پر سوال اٹھائے ہیں۔کھرگے نے کہا کہ ایسی صورت حال میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ جس چیف الیکشن کمشنر پر ان کے ساتھی ہی اعتماد نہیں کر رہے، اس پر ملک کیسے اعتماد کرے؟
الیکشن کمیشن نے کیا کہا؟
تاہم الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) سے متعلق احکامات تینوں الیکشن کمشنروں کی منظوری کے بعد جاری کیے گئے تھے۔ کمیشن نے فارم-6 کے حوالے سے بھی وضاحت کی ہے کہ اصل فارم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، بلکہ ایس آئی آر کے تحت اضافی اعلان سے متعلق ایک شق شامل کی گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
