Bharat Express DD Free Dish

Congress Working Committee

سی ڈبلیو سی کے اجلاس میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) اور ووٹر لسٹوں کے معاملے پر الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات عائد کیے۔ کھرگے نے کہا کہ مودی حکومت ملک میں جمہوری نظام کی مضبوط بنیاد کو کمزور کر رہی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ ایک سازش کے تحت ووٹر لسٹوں سے نام حذف کیے جا رہے ہیں۔ کھرگے نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو بھی نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ مودی حکومت کی ’کٹھ پتلی‘ بن گئے ہیں۔

میٹنگ ختم ہونے پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس لیڈر سچن پائلٹ نے کہا کہ ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ وقت ضائع کیے بغیر ذات پات کی مردم شماری مقررہ مدت کے اندر کرائی جائے۔ تاکہ فلاحی اسکیموں کے نفاذ میں شفافیت ہو۔

سی ڈبلیو سی کی میٹنگ میں کانگریس صدر ملیکا ارجن کھڑگے، سی پی پی چیئرپرسن سونیا گاندھی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈراور پارٹی کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی، پارٹی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا، کانگریس جنرل سکریٹری ڈاکٹرسید ناصر حسین، امبیکا سونی اورسلمان خورشید سمیت  دیگرکانگریس لیڈران موجود رہے۔

کانگریس کا کہنا ہے کہ وہ سردار پٹیل کی راہ پر چل کر کسانوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے، ’نفرت چھوڑو-بھارت جوڑو‘ کی راہ پر بڑھنے اور فرقہ وارانہ اشتعال کو روکنے کے مقصد سے جدوجہد کرنے کے لیے تیار ہے۔

راہل گاندھی نے مہاراشٹراسمبلی الیکشن سے متعلق سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کے کردارکوبھی مشکوک قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹرکی 118 سیٹوں پرووٹرجوڑے گئے، جس میں 102 بی جے پی جیتی۔ ان سیٹوں پر72 لاکھ ووٹرجوڑے گئے۔

میٹنگ میں راہل گاندھی نے لیڈروں سے ہمت نہ ہارنے کی اپیل کی۔ اس دوران راہل گاندھی نے کہا کہ صرف ای وی ایم ہی سوالیہ نشان نہیں ہے، پورا انتخابی نظام شک کے دائرے میں ہے اور الیکشن کمیشن غیر جانبدارانہ کردار ادا نہیں کر رہا ہے۔

کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیوسی) میٹنگ میں پارٹی کے جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ ہندوستان کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے بجائے روایتی بیلیٹ پیپر پرلوٹنا چاہئے۔

کانگریس صدر نے کہا کہ حالیہ انتخابی نتائج یہ بھی بتاتے ہیں کہ ہمیں ریاستوں میں اپنی انتخابی تیاریوں کو کم از کم ایک سال پہلے سے شروع کر دینا چاہیے۔ ہماری ٹیموں کو وقت سے پہلے میدان میں موجود ہونا چاہیے۔

سونیا گاندھی نے ہفتہ کو وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ مودی کو لوک سبھا انتخابات میں "سیاسی اور اخلاقی شکست" کا سامنا کرنا پڑا ہے اور وہ قیادت کا حق کھو چکے ہیں۔

کانگریس کی اس میٹنگ میں تمام ریاستوں کے پی سی سی چیف کے ساتھ ساتھ قانون ساز پارٹی کے لیڈران شرکت کریں گے۔ پارٹی کی ریاستی کارکردگی پر تجزیہ کریں گے۔ تنظیم کو بہتر بنانے پر بھی بات ہوگی۔