Bharat Express DD Free Dish

Pezeshkian Hits Back At Trump: ’ہم دہشت گرد نہیں، خود دہشت گردی کا شکار ہیں‘، یو این جی اے میں ایرانی صدر کا ٹرمپ پر جوابی حملہ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو دہشت گرد قرار دینا درست نہیں، کیونکہ ایران خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر سخت موقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو دہشت گرد کہنا غلط ہے، کیونکہ ایران خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔

ٹرمپ نے ایک روز قبل ایران کو دہشت گردی کا سرپرست قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی اپیل کی تھی۔

جوہری توانائی کو ایران کا حق قرار دیا

مسعود پزشکیان نے اپنے خطاب میں کہا کہ جوہری توانائی ایران کا حق ہے اور ان کا ملک اپنی دفاع کے لیے لڑ رہا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے عام شہریوں کو نشانہ بنایا اور جدید ترین ہتھیاروں سے حملے کیے۔ ان کے مطابق ایران نے کبھی گھٹنے نہیں ٹیکے اور پوری طاقت کے ساتھ اپنا دفاع کیا۔

اسرائیل پر بھی سنگین الزامات

ایرانی صدر نے اسرائیل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج مختلف علاقوں میں بے گناہ لوگوں کو نشانہ بناتی ہے۔غزہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہاں 80 ہزار سے زیادہ شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔

اسکول پر حملے کا بھی کیا ذکر

پزشکیان نے ایران میں ایک اسکول پر ہوئے حملے کا بھی ذکر کیا۔ بچوں کی تصاویر دکھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ معصوم کسی جرم میں ملوث نہیں تھے، لیکن امریکی اور اسرائیلی ہتھیاروں سے کیے گئے حملوں میں ان کی جان چلی گئی۔اس سے قبل بھی وہ میناب میں بچوں اور شہری ٹھکانوں پر حملوں کا معاملہ اٹھا چکے ہیں۔

امریکی وفد نے واک آؤٹ کیا

جیسے ہی مسعود پزشکیان نے اپنا خطاب شروع کیا، امریکی وفد نے اسمبلی ہال سے واک آؤٹ کردیا۔ایرانی صدر کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس تقریر کے ایک روز بعد سامنے آیا، جس میں امریکی صدر نے ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں فوجی کارروائی کی وارننگ دی تھی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔