بھارت میں ’سوراج‘ کا مفہوم طویل عرصے تک غیر ملکی حکمرانی سے آزادی اور اپنے فیصلے خود کرنے کے حق سے وابستہ رہا ہے۔ عالمی سیاست کے تناظر میں یہی تصور اب تزویراتی خودمختاری اور ترقی پذیر ممالک کی فیصلہ سازی میں شرکت سے جڑتا دکھائی دیتا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے گلوبل ساؤتھ یعنی ترقی پذیر ممالک کی ترجیحات کو بین الاقوامی پلیٹ فارموں پر زیادہ اہمیت دینے کی کوشش کی ہے۔ گلوبل ساؤتھ کی آواز سربراہی اجلاس اور 2023 میں بھارت کی جی 20 صدارت اس سمت میں اہم مثالیں رہی ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر سوراج کا مطلب صرف آزادانہ فیصلے کرنا نہیں بلکہ اپنی ترجیحات کے مطابق شراکت داریاں طے کرنے کی صلاحیت بھی ہے۔ اس کا مطلب عالمی اداروں سے دوری اختیار کرنا نہیں بلکہ ان میں ترقی پذیر ممالک کی آواز کو زیادہ موثر بنانا ہے۔ گلوبل ساؤتھ مکمل طور پر جغرافیائی اصطلاح نہیں ہے۔ عام طور پر اس کا استعمال ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکہ اور کیریبین سمیت ترقی پذیر ممالک کے وسیع گروپ کے لیے کیا جاتا ہے۔ ان ممالک کو ترقی کے لیے مالی وسائل، غذائی اور توانائی کے تحفظ، موسمیاتی تبدیلی، صحت، تکنیکی فرق اور روزگار جیسے مشترکہ چیلنجوں کا سامنا ہے۔
گلوبل ساؤتھ کی آواز سربراہی اجلاس اہم پلیٹ فارم بنا
بھارت نے 12 اور 13 جنوری 2023 کو پہلی مرتبہ مجازی طور پر گلوبل ساؤتھ کی آواز سربراہی اجلاس کی میزبانی کی۔ ’آواز کا اتحاد، مقصد کا اتحاد‘ کے موضوع کے تحت 125 ممالک نے اس میں شرکت کی۔ وزارت خارجہ کے مطابق اس کا مقصد ترقی پذیر ممالک کی ترجیحات اور خدشات کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا۔ اس اقدام کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ بھارت نے ان ممالک سے حاصل ہونے والی تجاویز کو اپنی 2023 کی جی 20 صدارت سے جوڑنے کی کوشش کی۔اجلاس میں مالی وسائل، توانائی، صحت، تعلیم، ماحولیات، تجارت اور ٹیکنالوجی جیسے موضوعات پر گفتگو ہوئی۔
جی 20 صدارت میں گلوبل ساؤتھ پر توجہ
بھارت کی 2023 کی جی 20 صدارت نے اس سفارتی کوشش کو ایک بڑا پلیٹ فارم فراہم کیا۔ نئی دہلی میں ہونے والے جی 20 سربراہی اجلاس میں افریقی یونین کو مستقل رکن کے طور پر شامل کیا گیا۔بھارت کی وزارت خارجہ نے اسے گلوبل ساؤتھ کی شرکت مضبوط کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا۔ بھارت نے جی 20 کے دوران عوامی ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، ترقیاتی مالی وسائل، غذائی و توانائی کے تحفظ اور موسمیاتی مسائل کو بھی نمایاں اہمیت دی۔اس کا مقصد ترقی پذیر ممالک کو درپیش عملی مسائل کو ایک بڑے کثیر فریقی پلیٹ فارم کی گفتگو کا حصہ بنانا تھا۔
جنوب۔جنوب تعاون کیوں اہم ہے؟
گلوبل ساؤتھ کی سفارت کاری کا دوسرا اہم پہلو ترقی پذیر ممالک کے درمیان تعاون ہے۔ اس کی بنیاد اس خیال پر ہے کہ ممالک اپنے تجربات، ٹیکنالوجی، تربیت اور ترقیاتی نمونے ایک دوسرے کے ساتھ بانٹ سکتے ہیں۔بھارت ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، صحت، تعلیم، زراعت، آفات سے نمٹنے اور صلاحیت سازی جیسے شعبوں میں اپنے تجربات بانٹنے کی بات کرتا رہا ہے۔ تاہم کسی بھی نمونے کو دوسرے ملک میں نافذ کرنے سے پہلے مقامی ضروریات اور حالات کے مطابق اس میں تبدیلی ضروری ہوتی ہے۔
کئی چیلنجز بھی سامنے ہیں
گلوبل ساؤتھ کو ایک یکساں گروپ سمجھنا آسان نہیں ہے۔ ترقی پذیر ممالک کی معاشی صورتحال، توانائی کی ضروریات، موسمیاتی ترجیحات اور خارجہ پالیسی کے مفادات ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔اس لیے بھارت کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ ان متنوع مفادات کے درمیان بات چیت اور اتفاق رائے کی راہ ہموار کرے۔ اس کے علاوہ کسی ملک کا عالمی قائدانہ کردار صرف اعلانات سے طے نہیں ہوتا۔ شراکت دار ممالک کے ساتھ کیے گئے تعاون کے عملی نتائج، مقامی صلاحیت سازی اور طویل مدتی اعتماد بھی اہم ہوتے ہیں۔
سوراج سے عالمی شراکت داری تک
بھارت کی گلوبل ساؤتھ سفارت کاری کو سوراج کے وسیع تصور سے جوڑ کر دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں سوراج کا مطلب الگ تھلگ رہنا نہیں بلکہ آزادانہ فیصلے کرتے ہوئے ایسی شراکت داریاں قائم کرنا ہے جو قومی اور مشترکہ ترقی کے اہداف کو آگے بڑھائیں۔ گلوبل ساؤتھ کی آواز سربراہی اجلاس، جی 20 میں افریقی یونین کی مستقل رکنیت اور جنوب۔جنوب تعاون جیسے اقدامات نے بھارت کو ترقی پذیر ممالک کے خدشات کو بین الاقوامی بحث میں اٹھانے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیے ہیں۔ پہلے سربراہی اجلاس کے بعد نومبر 2023 میں دوسرا اور اگست 2024 میں تیسرا گلوبل ساؤتھ کی آواز سربراہی اجلاس بھی منعقد کیا گیا۔آنے والے وقت میں اس کوشش کی اہمیت اس بات سے طے ہوگی کہ ترقی پذیر ممالک کی ترجیحات عالمی پالیسیوں، مالیاتی اداروں، موسمیاتی مذاکرات، تکنیکی ضوابط اور کثیر فریقی اداروں میں کس حد تک عملی نتائج میں تبدیل ہوتی ہیں۔بھارت کے لیے یہی وہ مرحلہ ہوگا جہاں ’سوراج‘ کا تاریخی تصور عالمی شراکت داری اور فیصلہ سازی میں زیادہ موثر شرکت کے خیال سے جڑتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


