گائے چوری کے شبہ میں چندر کے ساتھ مارپیٹ ہلاکت کا یہ معاملہ لسوڑیا تھانہ علاقے کے نرنجن پور کا ہے۔ پولیس کے مطابق چندر لوہار پر کچھ لوگوں نے گائے چوری میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے حملہ کیا تھا۔ شدید زخمی چندر کو اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں علاج کے دوران اس نے دم توڑ دیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ نرنجن پور علاقے سے ایک گائے اور اس کا بچھڑا لاپتہ ہوگیا تھا۔ اس کے بعد خاندان کے افراد کے ساتھ مقامی لوگ بھی دونوں جانوروں کی تلاش میں مصروف ہوگئے۔ تلاش کے دوران گائے اور بچھڑا دیواس ناکہ علاقے میں مل گئے۔ اسی دوران چندر لوہار پر گائے چوری میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا۔
شبہ کی بنیاد پر بھیڑ نے کی مبینہ مارپیٹ
الزام ہے کہ شبہ کی بنیاد پر کچھ لوگوں نے چندر کو گھیر لیا اور اس کے ساتھ مارپیٹ شروع کردی۔ معاملہ پولیس تک پہنچانے یا قانونی کارروائی کرنے کے بجائے بھیڑ نے مبینہ طور پر قانون اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ مارپیٹ میں چندر شدید زخمی ہوگیا۔ الزام ہے کہ ملزمان اسے انتہائی نازک حالت میں وہیں چھوڑ کر چلے گئے۔چندر کو علاج کے لیے اندور کے ایم وائی اسپتال لے جایا گیا، لیکن ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود اس کی جان نہیں بچائی جاسکی۔ واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے معاملے کی تفتیش شروع کردی۔
سی سی ٹی وی اور تکنیکی شواہد سے تفتیش
ابتدائی تفتیش میں پولیس کے سامنے کرنی سینا کے عہدیدار مان سنگھ راجاوت کے علاوہ سورج جاٹ، روہت اور کنال سمیت کئی لوگوں کے نام سامنے آئے ہیں۔ پولیس اب سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ، عینی شاہدین کے بیانات اور تکنیکی شواہد کی مدد سے پورے واقعے کی کڑیاں جوڑ رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں شامل دیگر ملزمان کی بھی تلاش کی جارہی ہے۔ حکام کے مطابق سورج جاٹ اور کنال سمیت فرار ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے پولیس کی ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔
گئو رکشا کے نام پر تشدد کی بھی جانچ
پولیس اب یہ معلوم کرنے میں مصروف ہے کہ چندر کے ساتھ مارپیٹ میں کون کون لوگ شامل تھے اور واقعے کے پیچھے پورا معاملہ کیا تھا۔ گرفتار مان سنگھ راجاوت سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران سامنے آنے والے حقائق اور شواہد کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



