Bharat Express DD Free Dish

Iran US Crisis: ٹرمپ کا ایران سے نئی بات چیت کا اعلان، خلیجی ممالک کی ثالثی کی کوششیں تیز

صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ نے ایران پر مجوزہ فوجی حملہ مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے کیونکہ تہران اور مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک نے اس کارروائی کو روکنے کی درخواست کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ معاہدے کا ابتدائی خاکہ تیار کر لیا گیا ہے۔ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ مکمل طور پر کارروائی کے لیے تیار تھا،

نئی دہلی : امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ نئی سفارتی بات چیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات پیر کی دوپہر سے شروع ہوں گے۔ ان کے مطابق خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر نے امریکہ سے ایران کے خلاف مجوزہ فوجی کارروائی روکنے کی درخواست کی ہے، جس کے بعد سفارتی کوششوں میں نمایاں تیزی آئی ہے۔صدر ٹرمپ نے جوائنٹ بیس اینڈریوز روانگی کے دوران ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایک معاہدے کی بنیاد رکھی جا چکی ہے، جبکہ اس کے بعد ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بھی ایک معاہدہ کیا جائے گا، جسے ایران کی جوہری تخفیف یا جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری کا معاہدہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے بھی امریکہ سے منصوبہ بند حملے واپس لینے کی درخواست کی تھی۔ ٹرمپ کے مطابق اس وقت دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جا رہا ہے اور فریقین سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل کی کوشش کر رہے ہیں۔امریکی حکام نے نیوز ایجنسی “ایکسیوس” کو بتایا کہ سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے ہفتے کے روز صدر ٹرمپ سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔ اس دوران انہوں نے ایران کے خلاف مجوزہ کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا اور امریکی منصوبے کے بارے میں وضاحت طلب کی۔دوسری جانب نیوز ایجنسی ژنہوا کے مطابق پاکستان، قطر، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور دیگر کئی ممالک نے بھی امریکہ اور ایران سے اپیل کی ہے کہ وہ کشیدگی میں کمی لائیں اور خطے کو مزید تنازع اور ممکنہ جنگ سے بچانے کے لیے سفارتی ذرائع اختیار کریں۔

اس سے قبل اتوار کے روز صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ نے ایران پر مجوزہ فوجی حملہ مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے کیونکہ تہران اور مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک نے اس کارروائی کو روکنے کی درخواست کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ معاہدے کا ابتدائی خاکہ تیار کر لیا گیا ہے۔ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ مکمل طور پر کارروائی کے لیے تیار تھا، تاہم عالمی امن اور ایک مستحکم و خوشحال ایران کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے حملہ مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا، بشرطیکہ جلد کوئی قابل قبول معاہدہ طے پا جائے۔ ان کے مطابق مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو فوری طور پر مکمل طور پر کھولنا اور ایران کے مبینہ جوہری خطرے کا خاتمہ شامل ہوگا۔امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے بھی سفارتی راستہ اختیار کرنے کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔ تاہم انہوں نے مجوزہ معاہدے کی تفصیلات، اس کی ممکنہ مدت یا ایران اور اسرائیل کی جانب سے ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق کے بارے میں کوئی مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read