Urdu Conclave 2026

Iranian Foreign Minister Seyed Abbas Araghchi: ایرانی وزیر خارجہ عراقچی کی یورپی یونین سے اپیل، ایرانی تجارتی جہاز پر حملے کے معاملے میں یوکرین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ

خبر رساں ایجنسی سنہوا کے مطابق دونوں رہنماؤں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی بات چیت کی اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ایرانی وزارت خارجہ نے ایک علیحدہ بیان میں کہا کہ حملے کے معاملے پر تہران میں یوکرین کے ناظم الامور (Chargé d’Affaires) کو طلب کیا گیا

نئی دہلی: ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ بحیرۂ کیسپین میں ایرانی تجارتی جہاز پر مبینہ حملے کے معاملے میں یوکرین کے خلاف سخت اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق عراقچی نے ہفتے کے روز یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں علاقائی صورتحال اور حالیہ پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق عراقچی نے گفتگو کے دوران ایرانی جہاز پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے یورپی یونین، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اس حملے کے ذمہ دار عناصر اور ان کے معاونین کا احتساب کیا جائے۔

خبر رساں ایجنسی سنہوا کے مطابق دونوں رہنماؤں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی بات چیت کی اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ایرانی وزارت خارجہ نے ایک علیحدہ بیان میں کہا کہ حملے کے معاملے پر تہران میں یوکرین کے ناظم الامور (Chargé d’Affaires) کو طلب کیا گیا اور اس واقعے پر شدید احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے باضابطہ احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا گیا۔ ایران نے اس حملے کو “مجرمانہ کارروائی” قرار دیا۔

وزارت کے مطابق یوکرینی حملے کے نتیجے میں ایرانی تجارتی جہاز میں دھماکا ہوا، جس کے باعث ایک ملاح ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع میں کبھی مداخلت نہیں کی، اس لیے اس نوعیت کا حملہ نہ صرف ناقابل قبول ہے بلکہ اس سے جنگ اور عدم تحفظ کے دائرے میں مزید وسعت آ سکتی ہے۔اسی روز یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے دعویٰ کیا کہ یوکرینی افواج نے بحیرۂ کیسپین میں ایک روسی جنگی جہاز اور ایران سے منسلک فوجی سامان لے جانے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں اس کارروائی کو اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی اور ایک جارحانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران ہمیشہ اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پرعزم رہے گا اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی غفلت نہیں برتے گا۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ یوکرین کو اپنے اس اقدام کے نتائج کی ذمہ داری خود اٹھانا ہوگی۔ایران نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ وہ روس اور یوکرین کی جنگ کا فریق نہیں ہے، تاہم ایرانی مفادات کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی کارروائی کا مناسب جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read