Bharat Express DD Free Dish

UN Security Council

خبر رساں ایجنسی سنہوا کے مطابق دونوں رہنماؤں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی بات چیت کی اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ایرانی وزارت خارجہ نے ایک علیحدہ بیان میں کہا کہ حملے کے معاملے پر تہران میں یوکرین کے ناظم الامور (Chargé d'Affaires) کو طلب کیا گیا

یو این ایس سی کے انتخابات میں ایک بڑا الٹ پھیردیکھنے کو ملا ہے۔ بھارت کے پڑوسی ملک پاکستان کوبھی سلامتی کونسل سے نکال دیا جائے گا۔ وہیں، کرغزستان پہلی بار سلامتی کونسل کا رکن بن جائے گا۔

ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کی جانب سے پیر کی صبح کویت میں موجود امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنائے جانے کے بعد خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ اس واقعے کے فوراً بعد سعودی عرب نے بھی سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایران کے بار بار اور اشتعال انگیز حملوں کی شدید مذمت کی۔

امریکی حکام نے بتایا کہ یہ کارروائی ایران کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنے کی ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد ملک کے اندر میزائل اور ڈرون سے متعلق سامان کی نقل و حرکت کو روکنا تھا۔

یو این ایس سی نے اقوامِ متحدہ کے تمام رکن ممالک سے اپیل کی کہ وہ تنازع اور عدم استحکام کو بڑھانے والی کسی بھی بیرونی مداخلت سے گریز کریں، مستقل امن کے قیام کی کوششوں کی حمایت کریں، بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو نبھائیں اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل کریں۔

اے این آئی نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے مزید بتایا کہ صورت حال کو بین الاقوامی بنانے کی پاکستان کی کوششیں بھی ناکام ہوئیں اور اسلام آباد کو مشورہ دیا گیا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ دو طرفہ طور پر معاملے کا حل تلاش کرے۔

جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان ایک غیر معمولی ملک ہے کیونکہ یہ ایک تہذیب والا ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی ثقافتی طاقت کو مکمل طور پر بروئے کار لا کر ہی یہ عالمی سطح پر اپنا اثر ڈال سکے گا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ نوجوان نسل اپنے ورثے کی قدر کو سمجھے۔

چین نے فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ جان بچانے کے لیے جنگ بندی ایک اہم شرط ہے اور اسے کسی مسئلے سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ جنگ بندی کے لیے پیشگی شرائط پر قائم رہنے کا مطلب معصوم شہریوں کے قتل عام کو نظر انداز کرنا اور جنگ کے تسلسل کو ’گرین سگنل‘ دینا ہے۔

ہفتے کے روز شہزادہ فرحان نے اسرائیل اور حماس جنگ پر بات چیت کے لیے واشنگٹن میں بلنکن سے علیحدہ ملاقات کی۔سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حکام نے "تشدد کی رفتار کو کم کرنے اور بین الاقوامی امن اور سلامتی پر اس کے خطرناک اثرات سے بچنے کے لیے تشدد پر قابوکو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔

جانب متحدہ عرب امارات، جس نے 2020 کے تاریخی معاہدے کے ایک حصے کے طور پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لایا، نے کہا کہ اسے بحران پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مزید اجلاسوں کی توقع ہے۔