نئی دہلی : جب بھی چینی (شوگر) کا ذکر ہوتا ہے تو ذہن میں سب سے پہلے مٹھائیاں، کیک، چاکلیٹ، آئس کریم یا کولڈ ڈرنکس کا خیال آتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ چینی صرف میٹھی چیزوں تک محدود نہیں۔ بازار میں دستیاب بہت سی پیکڈ اور روزمرہ استعمال ہونے والی غذاؤں میں بھی اضافی چینی (ایڈڈ شوگر) شامل ہوتی ہے، حالانکہ ان کا ذائقہ میٹھا محسوس نہیں ہوتا۔ ماہرین کے مطابق ایسی پوشیدہ چینی کا زیادہ استعمال موٹاپے، ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور دیگر صحت کے مسائل کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر قسم کی چینی نقصان دہ نہیں ہوتی۔ پھلوں، دودھ اور دہی میں قدرتی طور پر موجود چینی کو نیچرل شوگر کہا جاتا ہے، جو فائبر، وٹامنز، معدنیات اور دیگر غذائی اجزاء کے ساتھ ملنے کی وجہ سے صحت کے لیے نسبتاً محفوظ سمجھی جاتی ہے۔ اس کے برعکس پروسیسڈ اور پیکڈ غذاؤں میں ذائقہ، رنگ، ساخت اور شیلف لائف بہتر بنانے کے لیے جو چینی شامل کی جاتی ہے، اسے ایڈڈ شوگر کہا جاتا ہے، جس کا زیادہ استعمال نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
غذائی ماہرین کے مطابق چینی صرف ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال نہیں کی جاتی بلکہ یہ خوراک کو زیادہ دیر تک محفوظ رکھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کیچپ، باربی کیو ساس، پاستا ساس اور سلاد ڈریسنگ جیسی نمکین اشیا میں بھی اضافی چینی شامل کی جاتی ہے۔کسی بھی پیکڈ غذا میں موجود اضافی چینی کی مقدار جاننے کا سب سے آسان طریقہ اس کے نیوٹریشن لیبل کو غور سے پڑھنا ہے۔ آج کل زیادہ تر مصنوعات پر “ٹوٹل شوگر” اور “ایڈڈ شوگر” دونوں کی مقدار درج ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی پروڈکٹ میں 20 گرام ٹوٹل شوگر اور 15 گرام ایڈڈ شوگر لکھی ہو تو اس کا مطلب ہے کہ صرف 5 گرام قدرتی چینی ہے، جبکہ باقی 15 گرام الگ سے شامل کی گئی ہے۔ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ چینی ہمیشہ “شوگر” کے نام سے درج نہیں ہوتی۔ کمپنیاں اس کے لیے مختلف نام استعمال کرتی ہیں، جیسے کین شوگر، کارن سیرپ، ہائی فرکٹوز کارن سیرپ، رائس سیرپ، مولاسس، کیریمل، شہد، اگاوے، گلوکوز، فرکٹوز، سکروز، ڈیکسٹروز، مالٹوز اور لیکٹوز۔ اسی طرح اگر کسی پروڈکٹ پر “گلیزڈ”، “کینڈیڈ”، “کیریملائزڈ” یا “فراسٹڈ” جیسے الفاظ درج ہوں تو اس کا مطلب بھی اکثر اضافی چینی کی موجودگی ہوتا ہے۔
آج کل مارکیٹ میں “شوگر فری” یا “زیرو شوگر” کے نام سے بھی متعدد مصنوعات دستیاب ہیں۔ ان میں عموماً سوکرالوز، ایسپارٹیم، سیکرین یا اسٹیویا جیسے کم یا بغیر کیلوری والے میٹھے اجزا استعمال کیے جاتے ہیں، جو خون میں شوگر کی سطح پر کم اثر ڈالتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسی تمام مصنوعات مکمل طور پر صحت بخش ہوتی ہیں، کیونکہ ان میں ذائقہ اور ساخت برقرار رکھنے کے لیے دیگر پروسیسڈ اجزا بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔
اسی طرح پروٹین بارز، فلیورڈ یوگرٹ، چاکلیٹ یا اسٹرابیری فلیور والا دودھ، کافی کریمر، گرینولا، انسٹنٹ اوٹس، ناشتے کے سیریلز، ڈبہ بند پھل، جام، فروٹ پریزرو اور یہاں تک کہ مونگ پھلی، بادام یا کاجو کے بٹر میں بھی اکثر اضافی چینی شامل ہوتی ہے۔ سافٹ ڈرنکس کے علاوہ اسپورٹس ڈرنکس، انرجی ڈرنکس، بوتل بند کافی، آئسڈ ٹی اور پیکڈ جوس بھی شوگر سے بھرپور ہو سکتے ہیں۔ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر پسندیدہ غذاؤں میں تھوڑی مقدار میں اضافی چینی موجود ہو تو انہیں مکمل طور پر ترک کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ اعتدال کے ساتھ استعمال کریں، نیوٹریشن لیبل پڑھنے کی عادت اپنائیں اور روزمرہ خوراک میں سادہ پانی، بغیر چینی والی چائے یا کافی اور قدرتی غذاؤں کو ترجیح دیں تاکہ صحت مند طرز زندگی برقرار رکھا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



