آبنائے ہرمز (اسٹریٹ آف ہرمز) پرکنٹرول سے متعلق امریکہ اورایران کے درمیان جاری کشیدگی ہفتہ کومزید شدت اختیارکرگئی۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے فوجی اڈوں، تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کونشانہ بناتے ہوئے شدید حملے کئے۔ مسلسل جوابی کارروائیوں کے باعث خطے میں فوری طورپرامن کی کوئی امید نظرنہیں آ رہی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق، مسلسل ساتویں رات ہونے والے حملوں میں نگرانی کے مراکز، فوجی لاجسٹک انفراسٹرکچر، زیرزمین اسلحہ گوداموں اوربحری صلاحیتوں سے متعلق تنصیبات کونشانہ بنایا گیا۔
کویت کے ڈی سیلینیشن پلانٹ پر حملہ
دوسری جانب، کویت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایرانی میزائلوں اورڈرون حملوں کوناکام بنا دیا۔ تاہم حملوں کے دوران سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے والے ایک اہم ڈی سیلینیشن پلانٹ پرحملہ ہوا، جس سے وہاں آگ لگ گئی۔ کویت اپنی پینے کے پانی کی تقریباً 90 فیصد ضرورت اسی پلانٹ سے پوری کرتا ہے۔ گزشتہ دودنوں میں یہ اس نوعیت کا دوسرا حملہ ہے۔ سیکورٹی کے پیش نظرکویت نے کچھ وقت کے لیے اپنی فضائی حدود بند کردیں، جبکہ کویت ایئرویزکی کئی پروازوں کا شیڈول بھی تبدیل کردیا گیا۔
عراق اوراردن نے بھی میزائل اور ڈرون کئے تباہ
عراق نے بتایا کہ اس کی فضائی دفاعی فورس نے اربیل شہرکی فضاؤں میں ایرانی ڈرون مارگرائے۔ اردن کی سرکاری خبررساں ایجنسی “پیٹرا” کے مطابق ملک کے فضائی دفاعی نظام نے کئی ایرانی میزائل تباہ کردیئے، جبکہ بحرین میں بھی متعدد مرتبہ فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ امریکی حملوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں درجنوں افراد ہلاک اورسینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب امریکی فوج نے بھی اعتراف کیا ہے کہ اس کے متعدد اہلکارزخمی ہوئے ہیں۔
دونوں ممالک کو بھاری جانی نقصان
ایرانی حکام کے مطابق، حالیہ امریکی حملوں میں 46 افراد ہلاک اور400 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ جمعہ کے روزایک پل پرہونے والے حملے میں 8 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ دوسری جانب، امریکی حکام نے بتایا کہ پیرسے اب تک مزید 13 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں، جن میں 10 بری فوج اور 3 بحریہ کے اہلکار شامل ہیں۔ جنگ کے آغازسے اب تک 14 امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور427 کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔ اس سے قبل امریکہ نے ایران کے کئی نئے علاقوں میں فضائی حملے کیے تھے، جبکہ جواب میں ایران نے بحرین، کویت اوراردن کی سمت میزائل اور ڈرون داغے۔
ایران میں پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنایا گیا
جنگ شروع ہونے سے قبل امریکہ اورایران کے درمیان جوہری پروگرام کے معاملے پرمذاکرات جاری تھے، تاہم موجودہ صورتحال کے باعث سفارتی عمل تقریباً تعطل کا شکارہوگیا ہے۔ دوسری جانب، امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ پربھی جنگ ختم کرنے اورمغربی ایشیا میں طویل تنازعہ سے دور رہنے کے لیے اندرونِ ملک سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق امریکی فضائی حملوں میں جنوبی صوبے ہرمزگان کے کئی پلوں کونشانہ بنایا گیا۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے ایک روز قبل دعویٰ کیا تھا کہ ان حملوں کا مقصد بندرعباس بندرگاہ کوایران کے وسطی علاقوں اورتہران سے ملانے والے سڑک اورریلوے رابطوں کومتاثرکرنا تھا۔ ایران نے پہلی باراس بات کا اعتراف بھی کیا ہے کہ امریکی حملوں میں اس کے بعض بجلی گھرمتاثر ہوئے ہیں۔ وزارت توانائی نے جنوبی صوبوں کے عوام سے بجلی کی بچت کی اپیل کی ہے، تاہم متاثرہ تنصیبات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
آبنائے ہرمزبحران سے عالمی تیل بازارمتاثر
جنگ شروع ہونے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمزسے بحری جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹیں پیدا کردی ہیں، جس کے باعث عالمی تیل بازارپرنمایاں اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ جمعہ کوخام تیل کی قیمت 86 امریکی ڈالرفی بیرل سے تجاوزکرگئی، جبکہ اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد تین ہفتوں کی کم ترین سطح پرپہنچ گئی۔ دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا، “ایران میں بھی ہم بڑی کامیابی کی جانب بڑھ رہے ہیں اوراس کے نتائج بہت جلد پوری دنیا کے سامنے ہوں گے۔”
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


