Bharat Express DD Free Dish

Jamaat-E-Islami on Mohammad Ali Jauhar University Demolation Row: محمد علی جوہر یونیورسٹی کے انہدامی حکم پرجماعتِ اسلامی  نے اٹھائے سوال، تعلیمی اداروں سے متعلق کہی یہ بڑی بات

جماعتِ اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے کہا کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کے انہدام سے متعلق انتظامیہ کے فیصلے نے طلبہ، والدین، اساتذہ اور پورے تعلیمی حلقے میں سخت تشویش پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانونی معاملات اپنی جگہ، لیکن یہ ضروری ہے کہ طلبہ کی تعلیم، امتحانات اور ان کا مستقبل ہرحال میں محفوظ رکھا جائے۔

نئی دہلی: جماعتِ اسلامی ہند کے نائب امیرملک معتصم خان نے محمد علی جوہر یونیورسٹی کی عمارتوں کو منہدم کیے جانے کے سرکاری حکم پراپنی گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی حکومت کو طلبہ کے مستقبل اور تعلیمی اداروں کے تحفظ کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔ میڈیا کے لیے جاری اپنے بیان میں ملک معتصم خان نے کہا کہ تعلیمی ادارے قومی اثاثہ ہوتے ہیں جو برسوں کی اجتماعی محنت اورعوامی اعتماد سے وجود میں آتے ہیں۔ ایسا کوئی بھی قدم جس سے ہزاروں طلبہ کی تعلیم متاثر ہونے کا خدشہ ہو، اسے نہایت احتیاط، انصاف اور حساسیت کے ساتھ اختیار کیا جانا چاہیے۔

ملک معتصم خان نے کہا کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کے انہدام سے متعلق انتظامیہ کے فیصلے نے طلبہ، والدین، اساتذہ اورپورے تعلیمی حلقے میں سخت تشویش پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانونی معاملات اپنی جگہ، لیکن یہ ضروری ہے کہ طلبہ کی تعلیم، امتحانات اوران کا مستقبل ہرحال میں محفوظ رکھا جائے۔ ملک معتصم خان نے سوال کیا کہ اگر واقعی انہدامی حکم کی بنیاد غیر قانونی تعمیرات ہیں تو پھر یہی معیار ملک کے دیگر تمام تعلیمی اداروں پریکساں طورپرکیوں نافذ نہیں کیا جا رہا ہے؟ صرف اسی یونیورسٹی کو نشانہ بنا کر امتیازی سلوک کا مظاہرہ کیوں کیا جا رہا ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ یہ دعویٰ کہ یونیورسٹی کی عمارتیں اس وقت تعمیر کی گئی تھیں جب یہ علاقہ رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے دائرۂ اختیار میں شامل نہیں تھا، اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات شفاف اندازمیں عوام کے سامنے پیش کی جانی چاہیے۔ساتھ ہی حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ اسی نوعیت کے دیگر تعلیمی اداروں کے خلاف یکساں کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی ہے۔ قانون کا یک طرفہ نفاذ عوام کے اعتماد کومجروح کرتا ہے ۔ آئین میں دیے گئے مساوات کے اصول کو کمزور کرتا ہے اور امتیازی رویے کا تاثر پیدا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی ضابطے کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو قانون کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ پر جرمانہ یا دیگر تعزیری کارروائی کی جا سکتی ہے، لیکن سینکڑوں طلبہ اور اساتذہ پر مشتمل ایک فعال یونیورسٹی کی عمارتوں کو منہدم کرنا کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہے ۔

ملک معتصم خان نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ جماعتِ اسلامی ہند کا واضح موقف ہے کہ اعلیٰ تعلیمی ادارے تعلیمی مواقعوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور ملک کی سماجی و معاشی ترقی میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اتر پردیش پہلے ہی اعلیٰ تعلیم کے معاملے میں قومی اوسط سے پیچھے ہے، جہاں مجموعی داخلہ شرح (Gross Enrolment Ratio) تقریباً 24.1 فیصد ہے، جبکہ قومی اوسط 28.4 فیصد ہے۔ ایسے وقت میں حکومت کا کام تعلیمی اداروں کو مضبوط بنانا، ان کی حفاظت کرنا اور انہیں فروغ دینا ہونا چاہیے، نہ کہ انہیں منہدم کرنا۔ جو حکومتیں تعلیم کو وسعت دینے کے لیے سنجیدہ ہوں، انہیں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام، فروغ اور تحفظ کو ترجیح دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قانونی تقاضوں پر عمل درآمد کو منصفانہ اورشفاف طریقے سے یقینی بنایا جانا چاہیے، نہ کہ ایسے اقدامات کے ذریعے جو ہزاروں طلبہ کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیں۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read