Bharat Express DD Free Dish

Malik Motasim Khan

جماعتِ اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے کہا کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کے انہدام سے متعلق انتظامیہ کے فیصلے نے طلبہ، والدین، اساتذہ اور پورے تعلیمی حلقے میں سخت تشویش پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانونی معاملات اپنی جگہ، لیکن یہ ضروری ہے کہ طلبہ کی تعلیم، امتحانات اور ان کا مستقبل ہرحال میں محفوظ رکھا جائے۔

جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے اس عمل نے غریب، اقلیتی اورپناہ گزیں آبادیوں خاص طورپرسیمانچل جیسے پس ماندہ علاقوں کے رہنے والے افراد کو سنگین مسائل سے دوچار کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ عمل نہ صرف انتخابی قوانین کی سخت خلاف ورزی ہے بلکہ سپریم کورٹ کی ان ہدایات کو بھی نظر انداز کرتا ہے جس میں شناختی دستاویزات کی فہرست کا دائرہ بڑھانے اور اس میں آدھار، راشن کارڈ وغیرہ کو تسلیم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔

11 جولائی 2006 کو ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکوں میں 189 افراد ہلاک اور 800 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس کیس میں 2015 میں 12 افراد کو مجرم قرار دے کر عمر قید یا سزائے موت سنائی گئی تھی، جنہیں اب 21 جولائی 2025 کو بامبے ہائی کورٹ نے تمام الزامات سے بری کر دیا۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرملک معتصم خان نے کہا کہ شہریوں کومنتخب اندازمیں مسلح کرنے کے فیصلے کے حوالے سے حکومت کی منشاء اوراس کے ممکنہ اثرات پر کئی سنگین سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ منتخبہ علاقوں کو ’حساس‘ قرار دے کر مخصوص گروہوں کواسلحہ لائسنس دینا اقلیتوں کو حاشیے پر ڈالنے اور انہیں خوفزدہ کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔ 

ملک میں بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں میں مسلمانوں کے زیر انتظام چلنے والی بعض یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کو نشانہ بنائے جانے پر جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے افسوس کا اظہار کیا۔

مذہبی مقامات کا تحفظ قانون (1991) پر بات کرتے ہوئے نائب امیر جماعت جناب ملک معتصم خان نے کہا کہ ’’ اس قانون کا نفاذ، فرقہ وارانہ کشیدگی کو روکنے اور تمام مذہبی مقامات کو ان کی 15 اگست 1947 والی حیثیت پر برقرار رکھنے کی ضمانت کے طور پرہوا تھا تاکہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھا جاسکے۔

نائب امیرجماعت اسلامی ملک معتصم خان نے واقعہ کی غیرجانبدارانہ عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ متعلقہ پولیس افسران کے احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔ ساتھ ہی متاثرین اور ان کے خاندانوں کو انصاف مل سکے۔