Jamaat-E-Islami on Mohammad Ali Jauhar University Demolation Row: محمد علی جوہر یونیورسٹی کے انہدامی حکم پرجماعتِ اسلامی نے اٹھائے سوال، تعلیمی اداروں سے متعلق کہی یہ بڑی بات
جماعتِ اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے کہا کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کے انہدام سے متعلق انتظامیہ کے فیصلے نے طلبہ، والدین، اساتذہ اور پورے تعلیمی حلقے میں سخت تشویش پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانونی معاملات اپنی جگہ، لیکن یہ ضروری ہے کہ طلبہ کی تعلیم، امتحانات اور ان کا مستقبل ہرحال میں محفوظ رکھا جائے۔
مالیگاؤں بم دھماکہ فیصلے کے تناظرمیں تحقیقاتی ایجنسیوں پرجماعت اسلامی نے اٹھائے سوال، بہارمیں ایس آئی آر اور مختلف ریاستوں میں بنگالی بولنے والوں کے خلاف کاروائیوں پر اظہار تشویش
جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے اس عمل نے غریب، اقلیتی اورپناہ گزیں آبادیوں خاص طورپرسیمانچل جیسے پس ماندہ علاقوں کے رہنے والے افراد کو سنگین مسائل سے دوچار کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ عمل نہ صرف انتخابی قوانین کی سخت خلاف ورزی ہے بلکہ سپریم کورٹ کی ان ہدایات کو بھی نظر انداز کرتا ہے جس میں شناختی دستاویزات کی فہرست کا دائرہ بڑھانے اور اس میں آدھار، راشن کارڈ وغیرہ کو تسلیم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔
Mumbai train bomb blasts case: مہاراشٹر حکومت جیل سے بری ہونے والے بے گناہوں کو معاوضہ ادا کرے، سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کے بجائے اصل مجرموں کو گرفتار کیا جائے: ملک معتصم خان
11 جولائی 2006 کو ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکوں میں 189 افراد ہلاک اور 800 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس کیس میں 2015 میں 12 افراد کو مجرم قرار دے کر عمر قید یا سزائے موت سنائی گئی تھی، جنہیں اب 21 جولائی 2025 کو بامبے ہائی کورٹ نے تمام الزامات سے بری کر دیا۔
آسام حکومت نے کچھ علاقوں میں اسلحہ لائسنس جاری کرنے کا کیا فیصلہ، جماعت اسلامی نے اٹھایا سوال
جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرملک معتصم خان نے کہا کہ شہریوں کومنتخب اندازمیں مسلح کرنے کے فیصلے کے حوالے سے حکومت کی منشاء اوراس کے ممکنہ اثرات پر کئی سنگین سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ منتخبہ علاقوں کو ’حساس‘ قرار دے کر مخصوص گروہوں کواسلحہ لائسنس دینا اقلیتوں کو حاشیے پر ڈالنے اور انہیں خوفزدہ کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔
مسلمانوں کے زیر انتظام تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا ،غیر منصفانہ و افسوسناک: ملک معتصم خان ، نائب امیر جماعت اسلامی ہند
ملک میں بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں میں مسلمانوں کے زیر انتظام چلنے والی بعض یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کو نشانہ بنائے جانے پر جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے افسوس کا اظہار کیا۔
تحقیق اور سروے کے نام پر مذہبی مقامات تحفظ قانون سے کھلواڑ بند کیا جائے: ملک معتصم خان
مذہبی مقامات کا تحفظ قانون (1991) پر بات کرتے ہوئے نائب امیر جماعت جناب ملک معتصم خان نے کہا کہ ’’ اس قانون کا نفاذ، فرقہ وارانہ کشیدگی کو روکنے اور تمام مذہبی مقامات کو ان کی 15 اگست 1947 والی حیثیت پر برقرار رکھنے کی ضمانت کے طور پرہوا تھا تاکہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھا جاسکے۔
Jamaat-E-Islami Hind on Sambhal Violence: سنبھل تشدد میں مسلم نوجوانوں کی موت پر جماعت اسلامی نے اٹھائے سوال، پولیس فائرنگ کو سماج میں بڑھتے ریاستی جبر، مذہبی تفریق اورعدم رواداری کی مثال قرار دیا
نائب امیرجماعت اسلامی ملک معتصم خان نے واقعہ کی غیرجانبدارانہ عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ متعلقہ پولیس افسران کے احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔ ساتھ ہی متاثرین اور ان کے خاندانوں کو انصاف مل سکے۔





