ڈی ایم کے نے انڈیا الائنس سے الگ ہونے کا اعلان کردیا۔
نئی دہلی: لوک سبھا میں ڈی ایم کے کو اب کانگریس سے الگ بیٹھنے کی اجازت مل گئی ہے۔ پہلے ڈی ایم کے اور کانگریس اتحادی تھے، لیکن اب تمل ناڈو میں نئی حکومت بنی ہے، جس میں وزیراعلیٰ وجے کی پارٹی ٹی وی کے کانگریس نے اتحاد کرلیا ہے۔ اس سے ڈی ایم کے اورکانگریس کے درمیان رشتے خراب ہوگئے ہیں اوران کا پرانا اتحاد ٹوٹ گیا ہے۔ اس لئے ڈی ایم کے نے کہا کہ اب ہمارے اراکین پارلیمنٹ کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے۔
دراصل، ڈی ایم کے کے لیڈرایم کے اسٹالن نے لوک سبھا سکریٹریٹ سے اپنی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کے لئے الگ بیٹھنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اب اس مطالبہ کو منظوری مل گئی ہے۔ ڈی ایم کے لیڈر کنی موژھی کروناندھی نے بدلے ہوئے سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے لوک سبھا اسپیکراوم برلا کو خط لکھ کرالگ بیٹھنے کے انتظام میں تبدیلی کرنے کی گزارش کی تھی۔ پارٹی نے جمعرات کی شام کہا کہ وہ 8 جون کو نئی دہلی میں ہونے والی انڈیا بلاک کی میٹنگ میں شامل نہیں ہوگی۔
اسمبلی الیکشن میں کانگریس-ڈی ایم کے کا تھا اتحاد
کانگریس نے ڈی ایم کے ساتھ الیکشن سے پہلے ہوئے اتحاد کے تحت اسمبلی الیکشن لڑا تھا۔ اس وجہ سے دونوں پارٹیوں کے درمیان تلخی پیدا ہوگئی ہے۔ ڈی ایم کے کے سینئرلیڈران نے کانگریس کے اس قدم کو’پیٹھ میں چھرا گھونپنا‘ اور’دھوکہ دہی‘ قراردیا ہے۔ کانگریس نے اسمبلی الیکشن میں صرف 5 سیٹیں جیتیں، لیکن حکومت بنانے میں ٹی وی کے کی حمایت کی۔ اس قدم کی ڈی ایم نے سخت تنقید کی۔ تب سے ناراض چل رہی ڈی ایم کے نے واضح کردیا ہے کہ وہ کانگریس کے ساتھ کوئی قربت نہیں چاہتی ہے۔
انڈیا بلاک کی میٹنگ میں بھی شامل نہیں ہوگی ڈی ایم کے
پارٹی نے 8 جون کو ہونے والی انڈیا بلاک کی اگلی میٹنگ میں بھی شامل ہونے سے انکارکردیا ہے۔ ڈی ایم کے سینئرلیڈرٹی کے ایس الانگوون نے کہا کہ اب ہم انڈیا بلاک کا حصہ نہیں ہیں اوراسی لئے ہم میٹنگ میں شامل نہیں ہو رہے ہیں۔ یہ فیصلہ تب لیا گیا ہے جب ڈی ایم کے کی لمبی وقت سے اتحادی رہی کانگریس نے تمل ناڈومیں ٹی وی کے کی قیادت والی حکومت میں شامل ہونے کے لئے دراوڑین پارٹی سے اپنے رشتے توڑلئے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
