مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے سڑک پر نماز پڑھنے سے متعلق بڑا بیان دیا ہے۔ (فائل فوٹو)
مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ شوبھیندوادھیکاری نے کہا کہ پولیس اہلکاروں پرحملے اورتوڑپھوڑکے حادثات کوقطعی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے معاملوں میں سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اوراگرایسے حادثات دوبارہ ہوئے تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔
بنگال کی شوبھیندوحکومت نے عوامی مقامات پرنمازپڑھنے پرپابندی لگادی تھی، جس کے بعد سرکس پارک علاقے میں جب تجاوزات ہٹانے کی کارروائی شروع ہوئی تو وہاں پتھربازی کئے جانے کا الزام ہے۔ اس حملے میں کچھ افسران کے زخمی ہونے کی بات بھی سامنے آئی تھی اورکئی گاڑیوں کونقصان پہنچا تھا۔ وزیراعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے کہا کہ جموں وکشمیرکی طرح مغربی بنگال میں بھی ایسی روایت جاری نہیں رہے گی۔
مسلم علاقوں میں پتھربازی کا الزام
شوبھیندوادھیکاری نے بتایا کہ تشدد میں 6 پولیس اہلکاراورسی آرپی ایف کے 2 جوان زخمی ہوگئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک 40 لوگوں کوگرفتارکیا جاچکا ہے اورجانچ کی نگرانی سیدھے پولیس کمشنرکے ذریعہ کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں واضح پیغام دے رہا ہوں کہ اس طرح کی بدامنی، غنڈہ گردی اورملک مخالف، سماج مخالف سرگرمیوں کوبالکل بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہم ایسی چیزوں کوجاری نہیں رہنے دیں گے۔
میں اے سی میں نہیں بیٹھوں گا: شوبھیندو ادھیکاری
بنگال پولیس اورسینٹرل فورسزکی تعریف کرتے ہوئے شوبھندوادھیکاری نے کہا کہ انہوں نے ہجوم کے مشتعل ہونے کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا۔ سابق ترنمول کانگریس انتظامیہ کو نشانہ بناتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ دن ختم ہوگئے جب پولیس اہلکارزخمی ہوجاتے تھے جبکہ وزراء ایئرکنڈیشنڈ (اے سی) کمروں میں بیٹھے رہتے تھے۔ انہوں نے کہا، “یہ مت سمجھیں کہ پرانے اصول اب بھی نافذ ہیں۔ اگرکوئی یہ مانتا ہے کہ پولیس فورس ہاتھ پاؤں باندھ کرکام کرتی رہے گی تووہ غلط ہے۔” انہوں نے کہا کہ سیاسی اور مذہبی تنظیم پولیس کو مطلع کرنے کے بعد پروگرام کا انعقاد کرسکتے ہیں۔ تاہم لوگوں کو جمع کرنا، مذہبی نعرے بازی کرنا اور پتھر پھینکنے کے حادثات جاری نہیں رہ سکتیں۔ سری نگراور کشمیر میں پولیس پرپتھر پھینکنا اب بند ہوگیا ہے، مجھے یقین ہے کہ مغربی بنگال اور کولکاتا میں بھی یہ بند ہوجائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


