Bharat Express DD Free Dish

Muslims announces to go to Supreme Court on Dhar Bhojshala Case: دھار بھوج شالہ کو مندر قرار دیتے ہوئے ہائی کورٹ نے نماز کی ادائیگی پر لگائی پابندی، مسلم فریق نے سپریم کورٹ جانے کا اعلان

اندور ہائی کورٹ نے دھاربھوج شالہ سے متعلق کہا کہ یہ پرمارخاندان کے بادشاہ بھوج کے دورمیں سنسکرت کی تعلیم کا مرکز تھا۔ یہ دیوی سرسوتی کے لیے وقف ایک مندرتھا۔ مسلم سماج کی عرضی کو عدالت نے خارج کرتے ہوئے نماز کی ادائیگی پرپابندی لگا دی ہے۔

دھار بھوج شالہ سے متعلق اندورہائی کورٹ نے جمعہ (15 مئی، 2026) کے روزبڑا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے متنازعہ مقام کومندرتسلیم کرلیا ہے۔ ساتھ ہی کہا کہ ہندووں کوپوجا کرنے کا اختیار ہے۔ ساتھ ہی نمازکی ادائیگی پرپابندی لگا دی گئی ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ 12 مئی کو ہائی کورٹ نے اس معاملے میں اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا، لیکن آج اپنا اہم فیصلہ سنا دیا۔ اب عدالت کے فیصلے پرشہرقاضی وقارصادق نے ردعمل ظاہرکیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم عدالت کے فیصلے کو پڑھیں گے اور سمجھیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلم فریق سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائے گا۔

ہم سبھی وکلا کا شکریہ ادا کرتے ہیں: جج

دھاربھوج شالہ پراپنا فیصلہ سنانے کے لئے ہائی کورٹ کی بنچ نے جمعہ کے روزملاقات کی۔ جج نے عدالت میں تعاون کرنے والے تمام وکلاء کا شکریہ ادا کیا۔ عدالت نے کہا، ”ہم نے حقائق اوراے ایس آئی ایکٹ کا جائزہ لیا۔ آثارقدیمہ ایک سائنس ہے۔ اس کے نتائج پربھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی آئین کے تحت ملے بنیادی حقوق پربھی غورکیا جانا ہے۔  یہ پرمارخاندان کی اولاد راجا بھوج کے دورمیں سنسکرت کی تعلیم کا مرکزتھا۔ یہ دیوی سرسوتی کا مندرتھا۔”

دھاربھوج شالہ پرہائی کورٹ کا حکم

عدالت نے بھوج شالہ پراپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ بھوج شالا کمپلیکس ایک محفوظ یادگار ہے۔ یہ مندر ہے۔ ہندووں کو پوجا کرنے کا اختیار ہے۔ حکومت اوراے ایس آئی کووہاں سنسکرت کی تعلیم کا انتظام کرنے پربھی غورکرنا چاہئے۔ جہاں تک دیوی واگ دیوی کی مورتی کوہندوستان واپس لانے اورمندرمیں نصب کرنے کا تعلق ہے، مرکزی حکومت کواس پرغورکرنا چاہئے۔ وہیں مسلم فریق سے متعلق کہا کہ مسلم فریق حکومت کومسجد کے لئے جگہ دینے کے لئے درخواست دے سکتا ہے۔ مسجد ایسی جگہ ہونی چاہئے جس سے دونوں فریقوں کے درمیان تنازعہ پیدا نہ ہو۔

سوشل میڈیا کی نگرانی کررہی ہے مدھیہ پردیش پولیس

واضح رہے کہ اس فیصلے سے پہلے دھارضلع میں دفعہ 163 نافذ کردی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی 5 سے زیادہ لوگوں کے جمع ہونے پرپابندی لگا دی گئی ہے اورکسی بھی طرح کے احتجاجی مظاہرہ اورجلوس پر بھی روک لگائی گئی ہے۔  مدھیہ پردیش پولیس سوشل میڈیا پرکسی بھی طرح کے اشتعال انگیز تبصرہ کرنے والوں کی سخت مانیٹرنگ کررہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پٹرول-ڈیژل کی بوتل میں فروخت پربھی سخت نگاہ رکھی جا رہی ہے۔ ایسا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کی تیاری چل رہی ہے۔

کیا ہے پورا تنازعہ؟



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read