Dhar Bhojshala Namaz Controversy: ’’ہم نماز نہیں ہونے دیں گے‘‘، بھوج شالا میں آدھی رات کو کیوں بھڑک اٹھے کسان؟ کشیدگی کے خدشے پر الرٹ
دھار کی بھوج شالا کے پیچھے سروے نمبر 611 پر واقع آبائی زرعی زمین پر نماز کی ادائیگی کے لیے انتظامیہ کی تیاریوں کے خلاف کسانوں نے شدید ہنگامہ کیا۔ کسانوں نے بغیر کسی پیشگی نوٹس کے کیے گئے فیصلے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو وہ قانونی کارروائی کریں گے۔
Bhojshala Temple: بھوج شالہ-کمال مولا کمپلیکس سے متعلق ہائی کورٹ فیصلے کے بعد پوجا اور ہون، مسلم فریق کی جانب سے سپریم کورٹ میں چیلنج کی تیاری
واضح رہے کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں کہا تھا کہ متنازع بھوج شالہ-کمال مولا کمپلیکس بنیادی طور پر راجہ بھوج کی بھوج-پرمار سلطنت کے دور کا دیوی واگ دیوی (سرسوتی) کا مندر ہے۔ عدالت نے ASI کے 2003 کے اس حکم کو بھی جزوی طور پر منسوخ کر دیا، جس کے تحت مسلم برادری کو جمعہ کے روز وہاں نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
Muslims announces to go to Supreme Court on Dhar Bhojshala Case: دھار بھوج شالہ کو مندر قرار دیتے ہوئے ہائی کورٹ نے نماز کی ادائیگی پر لگائی پابندی، مسلم فریق نے سپریم کورٹ جانے کا اعلان
اندور ہائی کورٹ نے دھاربھوج شالہ سے متعلق کہا کہ یہ پرمارخاندان کے بادشاہ بھوج کے دورمیں سنسکرت کی تعلیم کا مرکز تھا۔ یہ دیوی سرسوتی کے لیے وقف ایک مندرتھا۔ مسلم سماج کی عرضی کو عدالت نے خارج کرتے ہوئے نماز کی ادائیگی پرپابندی لگا دی ہے۔
MP HC declares Bhojshala as Temple: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ، ہندو فریق کا مطالبہ تسلیم، مسلم فریق کو لگا بڑا جھٹکا، بھوج شالہ کومندرقراردیا
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے مسلم فریق سے کہا کہ وہ الگ زمین کا مطالبہ حکومت سے کرسکتے ہیں۔ زمین دینے کا فیصلہ کرنا حکومت کا کام ہے۔ وہیں دوسری جانب عدالت کے فیصلے کے بعد احاطے کے باہر بنے ایک مندر میں ہندو فریق کے لوگ جمع ہوکر جے شری رام کے نعرے لگا رہے ہیں۔ اس دوران وہاں بھگوا جھنڈے بھی لہرائے جا رہے ہیں۔





