Bharat Express DD Free Dish

Bhojshala Dispute

 مدھیہ پردیش کے بھوج شالہ معاملے میں سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے احاطے کے پاس مسلمانوں کو نماز کی اجازت دی ہے۔ مگر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے کو ابھی برقرار رکھا ہے۔

اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی نے بھوج شالہ فیصلے کوغیرآئینی بتاتے ہوئے بابری مسجد تنازعہ سے موازنہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ ایک مذہب کو ترجحیح دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلیسیزآف ورشپ ایکٹ کو پوری طرح مذاق بناکر رکھ دیا گیا ہے۔

اندور ہائی کورٹ نے دھاربھوج شالہ سے متعلق کہا کہ یہ پرمارخاندان کے بادشاہ بھوج کے دورمیں سنسکرت کی تعلیم کا مرکز تھا۔ یہ دیوی سرسوتی کے لیے وقف ایک مندرتھا۔ مسلم سماج کی عرضی کو عدالت نے خارج کرتے ہوئے نماز کی ادائیگی پرپابندی لگا دی ہے۔

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے مسلم فریق سے کہا کہ وہ الگ زمین کا مطالبہ حکومت سے کرسکتے ہیں۔ زمین دینے کا فیصلہ کرنا حکومت کا کام ہے۔ وہیں دوسری جانب عدالت کے فیصلے کے بعد احاطے کے باہر بنے ایک مندر میں ہندو فریق کے لوگ جمع ہوکر جے شری رام کے نعرے لگا رہے ہیں۔ اس دوران وہاں بھگوا جھنڈے بھی لہرائے جا رہے ہیں۔

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے پہلے ہی ہدایت دی تھی کہ تمام فریقین اے ایس آئی کی رپورٹ پر اپنے اعتراضات اور تجاویز آئندہ سماعت سے قبل جمع کرائیں، جو 2 اپریل کو مقرر ہے۔ عدالت نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ سماعت سے قبل مقام کا دورہ کر سکتی ہے۔ اے ایس آئی نے اس متنازع مقام پر 98 دن تک سائنسی سروے کیا تھا اور 15 جولائی 2024 کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔

جین برادری کا دعویٰ ہے کہ 1875 میں بھوج شالہ میں کھدائی کے دوران جین یکشنی امبیکا کی مورتی برآمد ہوئی تھی۔ وہ مجسمہ فی الحال برٹش میوزیم میں محفوظ ہے۔

ہائی کورٹ نے بھوج شالہ تنازعہ کیس کی اگلی سماعت کے لیے پہلے ہی 29 اپریل کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔ اے ایس آئی کی تازہ ترین درخواست پر بھی اس تاریخ کو سماعت کی جا سکتی ہے۔