Bhojshala Masjid-Mandir Dispute: بھوج شالہ میں سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، مسلمانوں کو نماز کی اجازت، ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی برقرار
مدھیہ پردیش کے بھوج شالہ معاملے میں سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے احاطے کے پاس مسلمانوں کو نماز کی اجازت دی ہے۔ مگر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے کو ابھی برقرار رکھا ہے۔
”پہلے بابری مسجد اوراب بھوج شالہ…“ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے پراسدالدین اویسی نے اٹھایا سوال، کہہ دی یہ بڑی بات
اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی نے بھوج شالہ فیصلے کوغیرآئینی بتاتے ہوئے بابری مسجد تنازعہ سے موازنہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ ایک مذہب کو ترجحیح دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلیسیزآف ورشپ ایکٹ کو پوری طرح مذاق بناکر رکھ دیا گیا ہے۔
Muslims announces to go to Supreme Court on Dhar Bhojshala Case: دھار بھوج شالہ کو مندر قرار دیتے ہوئے ہائی کورٹ نے نماز کی ادائیگی پر لگائی پابندی، مسلم فریق نے سپریم کورٹ جانے کا اعلان
اندور ہائی کورٹ نے دھاربھوج شالہ سے متعلق کہا کہ یہ پرمارخاندان کے بادشاہ بھوج کے دورمیں سنسکرت کی تعلیم کا مرکز تھا۔ یہ دیوی سرسوتی کے لیے وقف ایک مندرتھا۔ مسلم سماج کی عرضی کو عدالت نے خارج کرتے ہوئے نماز کی ادائیگی پرپابندی لگا دی ہے۔
MP HC declares Bhojshala as Temple: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ، ہندو فریق کا مطالبہ تسلیم، مسلم فریق کو لگا بڑا جھٹکا، بھوج شالہ کومندرقراردیا
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے مسلم فریق سے کہا کہ وہ الگ زمین کا مطالبہ حکومت سے کرسکتے ہیں۔ زمین دینے کا فیصلہ کرنا حکومت کا کام ہے۔ وہیں دوسری جانب عدالت کے فیصلے کے بعد احاطے کے باہر بنے ایک مندر میں ہندو فریق کے لوگ جمع ہوکر جے شری رام کے نعرے لگا رہے ہیں۔ اس دوران وہاں بھگوا جھنڈے بھی لہرائے جا رہے ہیں۔
Bhojshala-Kamal Maula disputed: سپریم کورٹ کی ہدایت، بھوجشالہ-کمال مولا تنازعے کی ویڈیوگرافی سے متعلق فریقین کے اعتراضات کا جائزہ لے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے پہلے ہی ہدایت دی تھی کہ تمام فریقین اے ایس آئی کی رپورٹ پر اپنے اعتراضات اور تجاویز آئندہ سماعت سے قبل جمع کرائیں، جو 2 اپریل کو مقرر ہے۔ عدالت نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ سماعت سے قبل مقام کا دورہ کر سکتی ہے۔ اے ایس آئی نے اس متنازع مقام پر 98 دن تک سائنسی سروے کیا تھا اور 15 جولائی 2024 کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔
Bhojshala Case: ہندوؤں اور مسلمانوں کے بعد جین برادری نے بھوج شالہ پر کیا دعویٰ، سپریم کورٹ میں عرضی داخل کر کہی یہ بات
جین برادری کا دعویٰ ہے کہ 1875 میں بھوج شالہ میں کھدائی کے دوران جین یکشنی امبیکا کی مورتی برآمد ہوئی تھی۔ وہ مجسمہ فی الحال برٹش میوزیم میں محفوظ ہے۔
Bhojshala Dispute: بھوج شالہ تنازعہ میں اے ایس آئی نے سروے مکمل کرنے کے لیے عدالت سے مانگا 8 ہفتے کا وقت، عرضی میں بتائی یہ وجہ
ہائی کورٹ نے بھوج شالہ تنازعہ کیس کی اگلی سماعت کے لیے پہلے ہی 29 اپریل کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔ اے ایس آئی کی تازہ ترین درخواست پر بھی اس تاریخ کو سماعت کی جا سکتی ہے۔





