بھوج شالہ میں جمعہ کی نماز کا معاملہ، سپریم کورٹ میں سماعت جاری، مسلم فریق نے کہا- عدالت کے حکم پرنہیں ہوا عمل
مسلم فریق کے سینئر وکیل حذیفہ احمدی نے معاملے کا ذکر کیا، جس پر چیف جسٹس نے سماعت جمعرات کو مقرر کرنے کی ہدایت دی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے پوچھا کہ متبادل مقام کی تفصیلات مسلم فریق کو کیوں نہیں دی گئیں۔
Bhojshala Masjid-Mandir Dispute: بھوج شالہ میں سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، مسلمانوں کو نماز کی اجازت، ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی برقرار
مدھیہ پردیش کے بھوج شالہ معاملے میں سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے احاطے کے پاس مسلمانوں کو نماز کی اجازت دی ہے۔ مگر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے کو ابھی برقرار رکھا ہے۔
”پہلے بابری مسجد اوراب بھوج شالہ…“ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے پراسدالدین اویسی نے اٹھایا سوال، کہہ دی یہ بڑی بات
اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی نے بھوج شالہ فیصلے کوغیرآئینی بتاتے ہوئے بابری مسجد تنازعہ سے موازنہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ ایک مذہب کو ترجحیح دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلیسیزآف ورشپ ایکٹ کو پوری طرح مذاق بناکر رکھ دیا گیا ہے۔
Muslims announces to go to Supreme Court on Dhar Bhojshala Case: دھار بھوج شالہ کو مندر قرار دیتے ہوئے ہائی کورٹ نے نماز کی ادائیگی پر لگائی پابندی، مسلم فریق نے سپریم کورٹ جانے کا اعلان
اندور ہائی کورٹ نے دھاربھوج شالہ سے متعلق کہا کہ یہ پرمارخاندان کے بادشاہ بھوج کے دورمیں سنسکرت کی تعلیم کا مرکز تھا۔ یہ دیوی سرسوتی کے لیے وقف ایک مندرتھا۔ مسلم سماج کی عرضی کو عدالت نے خارج کرتے ہوئے نماز کی ادائیگی پرپابندی لگا دی ہے۔
MP HC declares Bhojshala as Temple: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ، ہندو فریق کا مطالبہ تسلیم، مسلم فریق کو لگا بڑا جھٹکا، بھوج شالہ کومندرقراردیا
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے مسلم فریق سے کہا کہ وہ الگ زمین کا مطالبہ حکومت سے کرسکتے ہیں۔ زمین دینے کا فیصلہ کرنا حکومت کا کام ہے۔ وہیں دوسری جانب عدالت کے فیصلے کے بعد احاطے کے باہر بنے ایک مندر میں ہندو فریق کے لوگ جمع ہوکر جے شری رام کے نعرے لگا رہے ہیں۔ اس دوران وہاں بھگوا جھنڈے بھی لہرائے جا رہے ہیں۔





