Bharat Express DD Free Dish

MP High Court

یہ حکم اس وقت جاری کیا گیا جب 2022 کے ایک ماب لنچنگ مقدمے میں سزا سنانے کے بعد انہیں مسلسل دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ 12 جون کو جج تبسم خان نے 2022 کے ماب لنچنگ مقدمے میں 14 ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ یہ مقدمہ 3 اگست 2022 کو ایک شخص کو گائے اسمگلنگ کے شبہے میں تشدد کرکے قتل کرنے سے متعلق تھا۔

ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کوہتک عزت کے ایک مقدمے میں بڑی راحت ملی ہے۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ان کے وارنٹ گرفتاری پرروک لگا دی ہے۔ کیلاش وجے ورگیہ کے بیٹے آکاش وجے ورگیہ نے بھوپال میں ان کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائرکیا تھا۔

یہ معاملہ نومبر 2020 کا ہے، جب کولکاتا میں ایک سیاسی ریلی کے دوران ابھیشیک بنرجی نے مبینہ طور پر بی جے پی کے سینئر رہنما کیلاش وجے ورگیہ کے بیٹے آکاش وجے ورگیہ کو ’’غنڈا‘‘ قرار دیا تھا۔ بیان پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے آکاش وجے ورگیہ نے بھوپال کی خصوصی ایم پی/ایم ایل اے عدالت میں ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔

اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی نے بھوج شالہ فیصلے کوغیرآئینی بتاتے ہوئے بابری مسجد تنازعہ سے موازنہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ ایک مذہب کو ترجحیح دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلیسیزآف ورشپ ایکٹ کو پوری طرح مذاق بناکر رکھ دیا گیا ہے۔

اندور ہائی کورٹ نے دھاربھوج شالہ سے متعلق کہا کہ یہ پرمارخاندان کے بادشاہ بھوج کے دورمیں سنسکرت کی تعلیم کا مرکز تھا۔ یہ دیوی سرسوتی کے لیے وقف ایک مندرتھا۔ مسلم سماج کی عرضی کو عدالت نے خارج کرتے ہوئے نماز کی ادائیگی پرپابندی لگا دی ہے۔

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے مسلم فریق سے کہا کہ وہ الگ زمین کا مطالبہ حکومت سے کرسکتے ہیں۔ زمین دینے کا فیصلہ کرنا حکومت کا کام ہے۔ وہیں دوسری جانب عدالت کے فیصلے کے بعد احاطے کے باہر بنے ایک مندر میں ہندو فریق کے لوگ جمع ہوکر جے شری رام کے نعرے لگا رہے ہیں۔ اس دوران وہاں بھگوا جھنڈے بھی لہرائے جا رہے ہیں۔

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے پہلے ہی ہدایت دی تھی کہ تمام فریقین اے ایس آئی کی رپورٹ پر اپنے اعتراضات اور تجاویز آئندہ سماعت سے قبل جمع کرائیں، جو 2 اپریل کو مقرر ہے۔ عدالت نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ سماعت سے قبل مقام کا دورہ کر سکتی ہے۔ اے ایس آئی نے اس متنازع مقام پر 98 دن تک سائنسی سروے کیا تھا اور 15 جولائی 2024 کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔

یہ کیس کٹنی کے رہائشی اشوتوش منو دکشت نے جون 2025 میں دائر کیا تھا، جس میں انھوں نے پاٹھک خاندان سے منسلک کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

مدھیہ پردیش کے قبائلی امورکے وزیروجے شاہ، کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف متنازعہ بیان دے کرتنازعات میں گھرگئے ہیں۔ ایک طرف سوشل میڈیا پرانہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وہیں، مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ان کے بیان پرازخود نوٹس لیا ہے۔ عدالت نے ایم پی کے ڈی جی پی کو وجے شاہ کے خلاف ایف آئی آردرج کرنے کا حکم دیا ہے۔

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں متنازعہ کمال مولا مسجد-بھوج شالا پر اے ایس آئی کے سائنسی سروے رپورٹ پیش کی گی ہے۔ کئی میڈیا رپورٹس میں اے ایس آئی کی رپورٹ دیکھنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔