مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے ابتدائی رجحانات میں بی جے پی کو بڑی برتری ملتی نظر آ رہی ہے۔ پارٹی نے اکثریت کے اعداد و شمار کو عبور کرتے ہوئے تقریباً 150 سے زائد نشستوں پر بڑھت حاصل کر لی ہے، جبکہ ترنمول کانگریس تقریباً 100 سے زیادہ نشستوں پر آگے چل رہی ہے۔ کولکاتا اور اس کے آس پاس کے علاقے، جو پہلے ٹی ایم سی کے مضبوط گڑھ سمجھے جاتے تھے، وہاں بھی بی جے پی کو برتری حاصل ہے۔ کئی مقامات پر ٹی ایم سی کے سینئر رہنما اور وزراء پیچھے چل رہے ہیں۔
جھال مُڑھی نے دلائی 34 نشستیں
مغربی بنگال کے جھاڑگرام ضلع میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک انتخابی ریلی کے دوران سڑک کنارے رک کر مقامی مشہور اسٹریٹ فوڈ ’جھال مُڑھی‘ کھائی تھی، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئی۔ جھاڑگرام کی میدنی پور نشست کے علاقے میں بی جے پی 34 نشستوں پر آگے ہے، جبکہ ٹی ایم سی 13 نشستوں پر برتری رکھتی ہے۔خاص طور پر جھاڑگرام نشست سے بی جے پی امیدوار لکشمی کانتا کو 29,882 ووٹ ملے ہیں، جبکہ ٹی ایم سی امیدوار منگل سارین کو 21,882 ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ کانگریس کے امیدوار پرسن جیت دی کو 217 ووٹ ملے ہیں۔
کانگریس اور لیفٹ کی صورتحال
لیفٹ کچھ ہی نشستوں پر آگے ہے، جبکہ کانگریس ابھی تک کسی بھی نشست پر برتری حاصل نہیں کر سکی۔ مجموعی طور پر ابتدائی رجحانات میں مقابلہ کافی دلچسپ دکھائی دے رہا ہے، جس میں بی جے پی آگے اور ٹی ایم سی دوسرے نمبر پر ہے۔ای وی ایم کھلنے کے بعد سامنے آنے والے ابتدائی رجحانات یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ مغربی بنگال میں طویل عرصے سے اقتدار میں رہنے والی ترنمول کانگریس کی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے اور بی جے پی حکومت بنانے کی سمت میں بڑھ رہی ہے۔ اس انتخاب میں وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی بھرپور انتخابی مہم چلائی تھی۔
آسام اور تمل ناڈو کی صورتحال
آسام میں بھی بی جے پی مضبوط پوزیشن میں نظر آ رہی ہے اور تیسری بار حکومت بنانے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ وہاں پارٹی تقریباً 74 نشستوں پر آگے ہے جبکہ کانگریس تقریباً 23 نشستوں پر برتری رکھتی ہے۔ بدرالدین اجمل کی پارٹی اس بار کمزور کارکردگی دکھا رہی ہے۔تمل ناڈو میں مقابلہ کافی دلچسپ ہے۔ ڈی ایم کے اتحاد 60 سے زائد نشستوں پر آگے ہے، جبکہ ٹی وی کے 40 سے زیادہ نشستوں پر برتری کے ساتھ بڑا اپ سیٹ کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
کیرالہ اور پڈوچیری
کیرالہ میں کانگریس کی قیادت والا یو ڈی ایف اتحاد تقریباً 50 سے زائد نشستوں پر آگے ہے، جبکہ ایل ڈی ایف 30 سے زیادہ نشستوں پر برتری رکھتا ہے۔ پڈوچیری میں بی جے پی کی قیادت والا این ڈی اے اتحاد آگے چل رہا ہے۔ کیرالہ میں بی جے پی اتحاد چند نشستوں پر آگے ضرور ہے، لیکن وہاں اس کا اثر محدود ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

