Bharat Express DD Free Dish

Bengal election 2026

مغربی بنگال کے انتخابی ابتدائی رجحانات میں بڑا سیاسی تبدیلی کا منظر سامنے آ رہا ہے۔ بی جے پی اکثریت کے اعداد و شمار سے آگے بڑھت برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ ٹی ایم سی دوسرے نمبر پر ہے۔ بھوانی پور سیٹ پر ممتا بنرجی پیچھے چل رہی ہیں۔

مغربی بنگال میں ووٹوں کی گنتی سے پہلے ہی سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ کولکاتا کے بھوانی پور علاقے میں ٹی ایم سی اور بی جے پی کے کارکنوں کے درمیان جھڑپ ہوئی، جس سے کشیدگی بڑھ گئی۔

مغربی بنگال کی 294 نشستوں پر دو مرحلوں میں ووٹنگ ہوئی تھی۔ پہلے مرحلے میں 152 نشستوں اور دوسرے مرحلے میں 142 نشستوں پر ووٹ ڈالے گئے۔ اب 4 مئی کو ووٹوں کی گنتی ہوگی، جس کے بعد نتائج سامنے آئیں گے۔

مغربی بنگال میں ووٹوں کی گنتی سے پہلے ای وی ایم کے اسٹرونگ روم پر زبردست ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے۔ ممتا بنرجی نے رات کے اندھیرے میں اسٹرونگ روم کا دورہ کیا اور الزام لگایا کہ ’’ای وی ایم لوٹنے کی کوشش ہو رہی ہے۔‘‘ ٹی ایم سی کے دھرنے اور بی جے پی کے سخت جوابی حملے نے 4 مئی کے نتائج سے پہلے بنگال کی سیاسی گرمی کو عروج پر پہنچا دیا ہے۔

مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالہ، آسام اور پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات کے ایگزٹ پولز اور اصل نتائج کا ریکارڈ مختلف رہا ہے۔ جانیے کن ریاستوں میں اندازے درست ثابت ہوئے اور کہاں یہ مکمل طور پر ناکام رہے؟

مغربی بنگال کے فالٹا میں ٹی ایم سی امیدوار جہانگیر خان نے یو پی کے بڑبولے افسر اجے پال شرما کے متنازع اعلان  پر اپنی سخت ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بی جے پی کے اشارے پر کام کر رہے ہیں اور مجھے انکاؤنٹر کی دھمکی دے رہے ہیں۔

مغربی بنگال کے انتخابات میں آبزرور کے طور پر تعینات یوپی کے آئی پی ایس اجے پال شرما ایک وائرل ویڈیو کی وجہ سے تنازعات میں گھِر گئے ہیں۔ ٹی ایم سی کے ترجمان رِجو دتہ نے انہیں ‘4 تاریخ’ کے بعد انجام بھگتنے کی دھمکی دی ہے، جبکہ اکھلیش یادو نے اسے یوپی انتظامیہ کی شبیہ کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کے روز بیرک پور میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کیا۔ پی ایم کو سننے کے لیے بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔

متھن چکرورتی نے اسد الدین اویسی کی تعریف کرتے ہوئے انہیں "حقیقی لیڈر" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اویسی تعلیم یافتہ ہیں اور بہترین انداز میں بولتے ہیں ۔ متھن چکرورتی  نے یہ بھی واضح کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی مسلمانوں کے خلاف نہیں بلکہ ان عناصر کے خلاف ہے جو ملک کے مفادات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

مغربی بنگال کی 50 سے زائد اسمبلی نشستوں پر ہندی بولنے والے ووٹر ہار جیت کے فرق کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے بی جے پی نے بہار کے 100 سے زیادہ لیڈروں کو بنگال میں تعینات کیا ہے، جن میں منگل پانڈے اور نتن نوین نمایاں ہیں۔