(کالم نگار: خالد مصطفیٰ)
دنیا کے نقشے پر چند ایسے ممالک نمایاں ہیں جہاں حکومت نے عوامی فلاح کو اپنی پالیسیوں کا مرکز بنایا ہے۔ تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی سہولیات یا تو مفت فراہم کی جاتی ہیں یا نہایت کم قیمت پر دستیاب ہوتی ہیں۔ اس کے باوجود ان ممالک کی معیشت کمزور نہیں ہوتی بلکہ مزید مضبوط ہوتی ہے۔ یہی ماڈل “فلاحی ریاست” کہلاتا ہے اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر کوئی بھی ملک حقیقی ترقی کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
آج ہندوستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، نجی تعلیم کے اخراجات اور مہنگے علاج نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔ ایسے میں ایک بنیادی سوال یہ ہے: کیا ہندوستان بھی ان فلاحی ریاستوں کی طرح عوام کو مفت یا سستی سہولیات دے کر خود کو “وشوگرو” (عالمی رہنما) بنا سکتا ہے؟
فلاحی ریاستوں کی نمایاں مثالیں
فن لینڈ :- تعلیم میں انقلاب
فن لینڈ نے تعلیم کو مکمل طور پر عوامی خدمت بنا دیا ہے:
اسکول سے یونیورسٹی تک مفت تعلیم
طلبہ کے لیے کھانا، کتابیں اور ٹرانسپورٹ
امتحان کے بجائے سیکھنے پر زور
اسی لیے فن لینڈ کے طلبہ دنیا بھر میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
ناروے :- وسائل اور فلاح کا توازن
تعلیم اور صحت مکمل طور پر عوامی نظام کے تحت
تیل کی آمدنی کو قومی فنڈ میں محفوظ کرنا
عوام کو بجلی اور دیگر سہولیات میں سبسڈی
سویڈن:- مساوات اور خوشحالی
مفت تعلیم اور صحت
بچوں اور بے روزگار افراد کے لیے مالی امداد
سماجی انصاف کا مضبوط نظام
جرمنی :- ہنر اور ترقی
تقریباً مفت اعلیٰ تعلیم
ہنر مندی پر مبنی تربیت
مضبوط صنعتی معیشت
کینیڈا :- شفاف نظام
یونیورسل ہیلتھ کیئر
تعلیم پر سبسڈی
شفاف ٹیکس نظام
کامیابی کا راز
ان ممالک کی کامیابی چند اصولوں پر قائم ہے:
مضبوط اور شفاف ٹیکس نظام
کرپشن پر مکمل قابو
تعلیم اور صحت کو سرمایہ کاری سمجھنا
نجی اداروں پر کنٹرول
وسائل کا دانشمندانہ استعمال
“وشوگرو” بننے کا راستہ، حقیقت یا جذبات؟
آج کل ہندوستان کو “وشوگرو” بنانے کی باتیں بہت کی جاتی ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی ملک صرف نعروں سے نہیں بلکہ اپنی عوام کی فلاح سے عظیم بنتا ہے۔
ہندوستان اس وقت تک حقیقی معنوں میں “وشوگرو” نہیں بن سکتا جب تک:
ہر بچے کو مفت اور معیاری تعلیم نہ ملے
ہر شہری کو مفت یا سستا علاج دستیاب نہ ہو
عام آدمی بنیادی سہولیات کے لیے پریشان نہ ہو
یعنی “وشوگرو” بننے کا راستہ عوامی فلاح سے ہو کر گزرتا ہے، نہ کہ صرف معاشی اعداد و شمار سے۔
کیا سب کچھ مفت کرنا ہی حل ہے؟
یہاں ایک اہم حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے:
مفت سہولیات کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت کے پاس پیسہ کہیں اور سے نہیں آتا۔ دراصل:
ٹیکس کے ذریعے آمدنی حاصل کی جاتی ہے
قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے
معیشت کو مضبوط بنا کر اخراجات پورے کیے جاتے ہیں
یعنی “مفت” دراصل ایک منظم معاشی نظام کا نتیجہ ہوتا ہے، نہ کہ نقصان کا سودا۔
ہندوستان کے لیے ممکنہ راستہ
اگر ہندوستان سنجیدگی سے قدم اٹھائے تو حالات بدل سکتے ہیں:
اصلاحات:
سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں کو عالمی معیار تک لے جانا
نجی اداروں کی من مانی فیس پر کنٹرول
ٹیکس چوری پر سخت کارروائی
امیر طبقے سے منصفانہ ٹیکس وصولی
کرپشن کا خاتمہ
نجی نظام کا بڑھتا ہوا بوجھ
آج نجی اسکول اور کالج لاکھوں روپے وصول کر رہے ہیں
اسپتالوں میں علاج ایک کاروبار بن چکا ہے
ہیلتھ انشورنس بھی ایک مہنگی صنعت بن چکی ہے
اگر حکومت مضبوط عوامی نظام قائم کرے تو:
عوام کے ہزاروں کروڑ روپے بچ سکتے ہیں
معیشت میں پیسہ گردش کرے گا
غربت میں کمی آئے گی
اختتامی تجزیہ
فلاحی ریاست کا ماڈل ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔ فن لینڈ، ناروے اور سویڈن جیسے ممالک اس کی روشن مثالیں ہیں۔
اگر ہندوستان:
تعلیم اور صحت کو مفت یا سستا کرے
عوامی فلاح کو ترجیح دے
شفاف نظام قائم کرے
تو وہ دن دور نہیں جب ہندوستان نہ صرف ترقی یافتہ ملک بنے گا بلکہ حقیقی معنوں میں “وشوگرو” بھی بن سکتا ہے۔
کیونکہ یاد رکھنا چاہیے:
ایک عظیم قوم وہی ہوتی ہے جہاں عوام خوشحال، تعلیم یافتہ اور صحت مند ہو۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


