نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے 2029 کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے این ڈی اے کی زیرِ حکومت 21 ریاستوں میں یکساں شہری ضابطہ (یو سی سی) نافذ کرنے کے بیان کے بعد اس معاملے پر سیاسی اور سماجی بحث تیز ہوگئی ہے۔ اسی درمیان جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے یو سی سی کو لے کر اپنی مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ امت شاہ نے 13 ستمبر کو ممبئی میں کہا تھا کہ این ڈی اے کی حکومت والی تمام 21 ریاستوں میں 2029 سے پہلے یو سی سی نافذ کیا جائے گا۔
’دین سے سمجھوتہ نہیں کر سکتے‘
مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ مسلمان ہر چیز سے سمجھوتہ کر سکتا ہے، لیکن اپنے مذہب اور دین سے ہرگز سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایسا کوئی قانون قبول نہیں کیا جا سکتا جو شریعت کے خلاف ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ یو سی سی کا معاملہ صرف مسلم پرسنل لا تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق شہریوں کے مذہبی اور آئینی حقوق سے بھی ہے۔
ارشد مدنی نے یو سی سی کے حوالے سے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر آئین کے تحت درج فہرست قبائلی برادریوں کو اس قانون سے استثنیٰ دیا جا سکتا ہے تو مسلمانوں کو حاصل مذہبی آزادی کا بھی احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے یو سی سی کو آئینی بالادستی اور مذہبی حقوق کے تناظر میں دیکھنے کی بات کہی ہے۔
جمعیت نے عدالت کا رخ بھی کیا
جمعیت علماء ہند کے مطابق یو سی سی کے معاملے پر اس نے اتراکھنڈ ہائی کورٹ کا رخ کیا ہے۔ ارشد مدنی نے بتایا کہ اس معاملے میں اب تک 6 سماعتیں ہو چکی ہیں اور جمعیت کی جانب سے سینئر وکیل کپل سبل سمیت دیگر وکلا عدالت میں پیش ہو چکے ہیں۔
کیا ہے یو سی سی؟
یکساں شہری ضابطہ ایک ایسے قانونی نظام کی تجویز ہے جس کے تحت مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے لیے شادی، طلاق، وراثت اور گود لینے جیسے معاملات میں یکساں شہری قوانین نافذ کیے جائیں۔ امت شاہ نے کہا ہے کہ یو سی سی پہلے ہی بعض ریاستوں میں متعارف کرایا جا چکا ہے اور 2029 سے پہلے این ڈی اے کی زیرِ حکومت تمام 21 ریاستوں میں اسے نافذ کرنے کا ہدف ہے۔ ارشد مدنی کی جانب سے یو سی سی کی مخالفت کے بعد اس قانون کے دائرۂ کار، مذہبی آزادی اور آئینی حقوق سے متعلق بحث ایک بار پھر نمایاں ہوگئی ہے۔ ان کے بیان سے واضح ہے کہ جمعیت علماء ہند یو سی سی کی ان دفعات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے جنہیں وہ شریعت اور مسلمانوں کے مذہبی حقوق سے متصادم سمجھتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



