خواتین ریزرویشن بل کو لے کر حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی مزید تیز ہو گئی ہے۔ لوک سبھا میں اس آئینی ترمیمی بل کے پاس نہ ہو پانے کے بعد کانگریس نے اب جوابی حکمت عملی تیار کر لی ہے اور ملک گیر سطح پر اس مسئلے کو عوام تک لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس نے اعلان کیا ہے کہ وہ 21 اپریل کو ملک کے 29 بڑے شہروں میں بیک وقت پریس کانفرنس کرے گی، جس میں پارٹی کے سرکردہ رہنما عوام کے سامنے اپنا موقف پیش کریں گے۔ کانگریس کے اس اقدام کو براہ راست بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں کے خلاف ایک بڑے سیاسی حملے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پارٹی کا الزام ہے کہ مودی حکومت نے خواتین ریزرویشن بل کو جان بوجھ کر پیچیدہ شرائط کے ساتھ جوڑ کر اس کے نفاذ میں تاخیر کی ہے، تاکہ سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔

کانگریس کی ترجمان سپریا شرینیت نے وزیر اعظم کے حالیہ خطاب پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ خطاب دراصل خوف اور گھبراہٹ کی علامت ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت خواتین ریزرویشن کے نام پر حلقہ بندی (ڈلیمیٹیشن) جیسے متنازعہ اور تقسیم پیدا کرنے والے اقدامات کو نافذ کرنا چاہتی ہے، جو جمہوری اقدار کے خلاف ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس کا مطالبہ ہے کہ موجودہ 543 نشستوں کی بنیاد پر فوری طور پر ایک تہائی یعنی 181 نشستیں خواتین کے لیے مختص کی جائیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس کے لیے کسی اضافی شرط یا تاخیر کی ضرورت نہیں ہے اور اگر حکومت بغیر شرائط کے بل نافذ کرے تو اپوزیشن مکمل تعاون دینے کو تیار ہے۔
کانگریس کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت نے 2023 میں متفقہ طور پر منظور ہونے والے اس بل کو تقریباً ڈھائی سال تک نافذ نہیں کیا اور حال ہی میں اس کی نوٹیفکیشن جاری کی گئی۔ پارٹی کے مطابق یہ تاخیر اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت واقعی خواتین کو ان کا حق دینے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ سپریا شرینیت نے وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے 29 منٹ کے خطاب میں 58 مرتبہ کانگریس کا ذکر کیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ حکومت اپوزیشن کے سوالات سے پریشان ہے۔ ان کے مطابق حکومت خواتین کے نام پر محض ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ زمینی سطح پر کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔
کانگریس نے حکومت کے اس دعوے پر بھی سوال اٹھایا ہے جس میں لوک سبھا کی نشستوں میں 50 فیصد اضافے کی بات کی گئی تھی۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ بل کے مسودے میں اس کا کوئی ذکر نہیں تھا اور اس طرح کے اقدامات سے جنوبی، شمال مشرقی اور چھوٹی ریاستوں کی نمائندگی متاثر ہو سکتی ہے۔ پارٹی نے یہ بھی الزام لگایا کہ وزیر اعظم پسماندہ طبقات کی خواتین کو ان کا حق دینے سے گریزاں ہیں۔ کانگریس کے مطابق اگر ذات پر مبنی مردم شماری کے بعد ریزرویشن نافذ کیا گیا تو پسماندہ طبقے کی خواتین کو بھی اس کا فائدہ ملے گا، جس سے حکومت بچنا چاہتی ہے۔ کانگریس نے خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم کے معاملات کو بھی اٹھانے کا اعلان کیا ہے، جن میں منی پور تشدد، ہاتھرس، اناؤ، لکھیم پور اور دیگر واقعات شامل ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ان معاملات پر حکومت کا رویہ مایوس کن رہا ہے۔
مزید برآں، کانگریس نے بی جے پی میں خواتین کی کم نمائندگی پر بھی سوال اٹھایا ہے اور کہا ہے کہ پارٹی کے 240 اراکین پارلیمنٹ میں صرف 12.9 فیصد خواتین ہیں۔ کانگریس نے دعویٰ کیا کہ خواتین کو حقیقی سیاسی نمائندگی دینے کا کام ماضی میں اس کی حکومت نے کیا، خاص طور پر 73ویں اور 74ویں آئینی ترمیم کے ذریعے۔ کانگریس نے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو عوامی سطح پر بھرپور طریقے سے اٹھائے گی اور حکومت کو چیلنج کرے گی کہ وہ مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر عوامی مسائل پر خواتین کے درمیان جا کر جواب دے۔ پارٹی کا ماننا ہے کہ خواتین ریزرویشن کا مسئلہ اب محض قانون سازی کا نہیں بلکہ سیاسی سچائی کو بے نقاب کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

