نئی دہلی: خصوصی پارلیمانی اجلاس کے دوران لوک سبھا میں جمعرات کو اس وقت شدید سیاسی ہنگامہ برپا ہو گیا جب کانگریس رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے تین اہم بلوں کی مخالفت کی۔ اس دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اپوزیشن کو کرارا جواب دیا، جس کے بعد ایوان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔
اپوزیشن کا سخت اعتراض اور وفاقی ڈھانچے کا سوال
لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے کے سی وینوگوپال نے آئین (131ویں ترمیم) بل 2026، یونین ٹیریٹریز لاز (ترمیمی) بل 2026 اور حد بندی بل 2026 کی پیشی پر سخت اعتراض کیا۔ انہوں نے ان بلوں کو ہندوستان کے وفاقی ڈھانچے پر ’’بنیادی حملہ‘‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ حکومت کا اصل مقصد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ پہلے ہی خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن سے متعلق قانون منظور کر چکی ہے، ایسے میں نئی قانون سازی کے پیچھے حکومت کی نیت پر شبہ پیدا ہوتا ہے۔ اپوزیشن ارکان نے اس موقع پر حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی، جس سے ایوان کا ماحول کشیدہ ہو گیا۔
امت شاہ کا دو ٹوک جواب
اپوزیشن کے اعتراضات پر فوری ردعمل دیتے ہوئے امت شاہ نے واضح کیا کہ بل پیش کیے جانے کے مرحلے پر اس کی خوبیوں یا خامیوں پر سوال نہیں اٹھایا جاسکتا، بلکہ صرف تکنیکی اعتراضات ہی قابل قبول ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان تمام اعتراضات کا تفصیلی اور ’’مضبوط جواب‘‘ بحث کے دوران دے گی۔ ان کے اس بیان کے بعد حکمراں جماعت کے ارکان نے میزیں بجا کر حمایت کا اظہار کیا، جبکہ اپوزیشن نے اپنا احتجاج جاری رکھا۔
اہم بل اور قانون سازی کا ایجنڈا
اس موقع پر مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے آئین (131ویں ترمیم) بل 2026 اور حد بندی بل 2026 پیش کرنے کی تجویز رکھی، جبکہ امت شاہ نے یونین ٹیریٹریز لاز (ترمیمی) بل 2026 کو ایوان میں پیش کرنے کی بات کہی۔ حکومت نے ان بلوں کی منظوری کے لیے 16 سے 18 اپریل تک خصوصی پارلیمانی اجلاس طلب کیا ہے، جس کا مقصد ’’ناری شکتی وندن ادھینیم‘‘ کو عملی شکل دینا اور خواتین ریزرویشن کو 2029 کے عام انتخابات سے نافذ کرنا ہے۔ اسی کے ساتھ حکومت نے لوک سبھا کے قواعد میں نرمی لانے کے لیے رول 66 کی بعض شقوں کو معطل کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے، تاکہ خواتین ریزرویشن اور حد بندی سے متعلق بلوں کو ایک ساتھ منظور کیا جا سکے۔
سیاسی کشیدگی میں اضافہ
ادھر وزیراعظم نریندر مودی پہلے ہی اپوزیشن سے ان بلوں کی حمایت کی اپیل کر چکے ہیں اور اسے ملک کی خواتین کی خواہش قرار دے چکے ہیں۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں نے واضح کیا ہے کہ وہ خواتین ریزرویشن کی حمایت کرتی ہیں، مگر حد بندی بل اور اس کے طریقۂ کار پر شدید تحفظات رکھتی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، ان بلوں کو لے کر جاری تنازع آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ یہ نہ صرف پارلیمانی نمائندگی بلکہ ملک کے وفاقی توازن پر بھی اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
