Bharat Express DD Free Dish

Nari Shakti Vandan Adhiniyam: خواتین کی قانون ساز اداروں میں شمولیت ملک کی ترقی اور جمہوریت کے استحکام کے لیے ضروری: وزیراعظم

وزیر اعظم نے کہا کہ خواتین کو ان کا جائز حق دینے میں مزید تاخیر ناانصافی ہوگی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والا پارلیمانی اجلاس اس سمت میں ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا اور آنے والی نسلیں اسے ایک سنگ میل کے طور پر یاد رکھیں گی۔

نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے بابا صاحب ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی 135ویں یومِ پیدائش کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے خواتین کی قانون ساز اداروں میں بڑھتی ہوئی شمولیت کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی اور جمہوریت کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ خواتین کو پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں زیادہ نمائندگی دی جائے۔ وزیراعظم نے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں واقع ’پررینا استھل‘ پر بابا صاحب امبیڈکر کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ایک خط کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ 14 اپریل کا دن ہندوستان کی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اسی دن ایک ایسی عظیم شخصیت نے جنم لیا جس نے ملک کو آئین جیسا مضبوط فریم ورک فراہم کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امبیڈکر کی آئینی اقدار اور اصول آج بھی ملک کی رہنمائی کر رہے ہیں۔

خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت پر اظہارِ مسرت

وزیراعظم مودی نے ملک کے مختلف شعبوں میں خواتین کی نمایاں موجودگی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج خواتین تعلیم، ادب، سائنس، فنونِ لطیفہ، موسیقی، فلم، رقص اور ثقافت سمیت ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹارٹ اپس اور سائنسی تحقیق کے شعبوں میں بھی خواتین قائدانہ کردار ادا کر رہی ہیں، جو ایک مثبت تبدیلی کی علامت ہے۔ انہوں نے کھیلوں کے میدان میں خواتین کی کامیابیوں کو بھی سراہا اور کہا کہ ہندوستانی خواتین کھلاڑی عالمی سطح پر تمغے جیت کر نہ صرف ملک کا نام روشن کر رہی ہیں بلکہ نوجوان لڑکیوں کے لیے تحریک کا ذریعہ بھی بن رہی ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ تبدیلی ایک خاموش انقلاب کی مانند ہے جو معاشرے کی سوچ کو بدل رہی ہے۔

ناری شکتی وندن ادھینیم اور پارلیمانی عمل

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں ناری شکتی ادھینیم کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ آنے والے دنوں میں پارلیمنٹ میں اس اہم آئینی ترمیم پر بحث ہوگی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام سیاسی جماعتیں اس بل کی حمایت کریں گی تاکہ خواتین کو قانون ساز اداروں میں مناسب نمائندگی مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں زیادہ نشستیں دینا نہ صرف انصاف کا تقاضا ہے بلکہ یہ ملک کی ترقی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق، جب خواتین پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہوں گی تو جمہوریت مزید مضبوط اور مؤثر ہوگی۔

تاریخی پس منظر اور خواتین کے حقوق

وزیراعظم نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آزادی سے قبل بھی سردار ولبھ بھائی پٹیل جیسے رہنماؤں نے خواتین کے لیے نشستیں محفوظ کرنے کی کوششیں کی تھیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں آزادی کے ساتھ ہی خواتین کو مردوں کے برابر ووٹ دینے کا حق حاصل ہوا، جبکہ دنیا کے کئی ممالک میں خواتین کو یہ حق حاصل کرنے کے لیے طویل جدوجہد کرنی پڑی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے خواتین کی نمائندگی بڑھانے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں، لیکن وہ مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس دیرینہ مطالبے کو عملی جامہ پہنایا جائے۔

وکست بھارت کے خواب میں خواتین کا کردار

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ 2047 تک ایک ترقی یافتہ ہندوستان (وکست بھارت) کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے خواتین کا فعال کردار نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ملک کی نصف آبادی فیصلہ سازی میں برابر کی شریک ہوگی تو ترقی کی رفتار مزید تیز ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خواتین کی شمولیت محض ایک اختیار نہیں بلکہ ایک لازمی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم نے عوام، خاص طور پر خواتین سے اپیل کی کہ وہ اپنے منتخب نمائندوں کو اس بل کی حمایت کے لیے آمادہ کریں تاکہ یہ تاریخی قدم جلد از جلد حقیقت بن سکے۔ اپنے پیغام کے اختتام پر وزیراعظم نے کہا کہ خواتین کو ان کا جائز حق دینے میں مزید تاخیر ناانصافی ہوگی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والا پارلیمانی اجلاس اس سمت میں ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا اور آنے والی نسلیں اسے ایک سنگ میل کے طور پر یاد رکھیں گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read