آسام میں ہونے والے 2026 کے اسمبلی انتخابات سے قبل امیدواروں کے حلف ناموں نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے۔ ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز کی تازہ رپورٹ کے مطابق کل 722 امیدواروں میں سے 102 امیدواروں نے اپنے خلاف فوجداری مقدمات کا اعتراف کیا ہے، جو مجموعی طور پر 14 فیصد بنتے ہیں۔ ان میں سے 82 امیدواروں پر سنگین نوعیت کے مقدمات درج ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انتخابات 9 اپریل کو ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ریاست میں 126 اسمبلی نشستوں کے لیے سیاسی جماعتوں کے امیدوار میدان میں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2021 کے اسمبلی انتخابات کے مقابلے میں اس بار فوجداری مقدمات رکھنے والے امیدواروں کی تعداد میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔ 2021 میں 941 امیدواروں میں سے 138 امیدواروں نے اپنے خلاف فوجداری مقدمات ظاہر کیے تھے، جو تقریباً 15 فیصد بنتے تھے۔ اس بار یہ شرح 14 فیصد تک محدود رہی ہے۔ تاہم سنگین نوعیت کے مقدمات رکھنے والے امیدواروں کی تعداد اب بھی خاصی زیادہ ہے، جس نے انتخابی شفافیت اور سیاسی جماعتوں کی امیدواروں کے انتخاب کے عمل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ اس فہرست میں سرفہرست ہے۔ پارٹی کے 20 میں سے 11 امیدواروں نے اپنے خلاف فوجداری مقدمات کا اعتراف کیا ہے، جو تقریباً 37 فیصد بنتے ہیں۔ اس کے بعد انڈین نیشنل کانگریس کا نمبر آتا ہے، جس کے 99 میں سے 28 امیدواروں پر فوجداری مقدمات درج ہیں۔ اسی طرح آسام گن پریشد کے 26 میں سے 6 امیدواروں پر مقدمات ہیں جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے تقریباً 9 فیصد امیدواروں پر فوجداری مقدمات درج ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔
انفرادی امیدواروں کی بات کریں تو اکھل گوگوئی کے خلاف سب سے زیادہ مقدمات درج ہیں۔ سبساگر سے موجودہ ایم ایل اے اور رائزور دل کے صدر اکھل گوگوئی کے انتخابی حلف نامے کے مطابق ان پر 21 مقدمات زیر سماعت ہیں۔ ان مقدمات میں مجرمانہ سازش اور بغاوت پر اکسانے جیسے الزامات شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان میں سے بیشتر مقدمات 2019 کے سی اے اے مخالف احتجاج سے جڑے ہوئے ہیں، تاہم انہیں ابھی تک کسی بھی مقدمے میں قصوروار قرار نہیں دیا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بدرالدین اجمل نے اپنے خلاف ایک فوجداری مقدمہ زیر سماعت ہونے کا ذکر کیا ہے، جو مبینہ طور پر متنازعہ بیان سے متعلق ہے۔ دوسری جانب ہمنت بسوا سرما کے انتخابی حلف نامے کے مطابق ان پر کوئی فوجداری مقدمہ زیر سماعت نہیں ہے۔ اسی طرح ہوجائی سے بی جے پی کے امیدوار شلا دتیہ دیو نے اپنے خلاف تقریباً 13 مقدمات کا ذکر کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امیدواروں کے خلاف فوجداری مقدمات کا انکشاف ووٹرز کو بہتر فیصلہ لینے میں مدد دیتا ہے۔ انتخابی شفافیت کو مضبوط بنانے کے لیے ایسے اعداد و شمار اہم سمجھے جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق عوام کو امیدواروں کے پس منظر سے آگاہ کرنا جمہوری عمل کو مزید مضبوط بنانے کی سمت اہم قدم ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


