نئی دہلی :بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ‘من کی بات’ کے 132ویں قسط میں خطاب کیا۔ وزیراعظم نے اس قسط کی شروعات میں مشرق وسطیٰ کے تنازعات اور توانائی بحران کا ذکر کیا۔وزیراعظم مودی نے ان بھارتیوں کی حفاظت اور مدد کے لیے خلیجی ممالک کی حکومتوں کا شکریہ ادا کیا جو نوکری کے سلسلے میں مشرق وسطیٰ میں رہ رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ موجودہ توانائی بحران کے باوجود بھارت ڈٹ کر اس کا مقابلہ کر رہا ہے۔
عالمی صورتحال اور توانائی بحران: ایک متحد بھارت
وزیراعظم مودی نے ‘من کی بات’ کے 132ویں قسط میں کہا، “مارچ کا یہ مہینہ عالمی سطح پر بہت ہی ہلچل بھرا رہا ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ پوری دنیا نے کووِڈ کے سبب ایک طویل عرصے تک متعدد مسائل کا سامنا کیا۔ سب کی توقع تھی کہ کورونا بحران کے بعد دنیا نئی ترقی کی راہ پر آگے بڑھے گی، لیکن موجودہ وقت میں دنیا کے مختلف خطوں میں جنگ اور تنازعات کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ ہمارے پڑوسی خطے میں ایک ماہ سے بھی شدید جنگ جاری ہے۔” وزیر اعظم مودی نے خلیجی ممالک کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، “ہمارے لاکھوں خاندان کے رشتے دار ان ممالک میں رہائش پذیر ہیں، خاص طور پر خلیجی ممالک میں کام کر رہے ہیں۔ میں خلیج کے ممالک کا شکر گزار ہوں کہ وہ ایک کروڑ سے زیادہ بھارتیوں کو ہر طرح کی مدد فراہم کر رہے ہیں۔ جس خطے میں ابھی جنگ جاری ہے، وہ خطہ ہماری توانائی کی ضروریات کا بڑا مرکز ہے، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بحران پیدا ہو رہا ہے۔”
وزیراعظم مودی نے بتایا کہ بھارت موجودہ توانائی بحران کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے اور ساتھ ہی انہوں نے عوام سے یکجہتی کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا، “ہمارے عالمی تعلقات، مختلف ممالک سے تعاون اور گزشتہ ایک دہائی میں ملک کی طاقت کی بنیاد کی وجہ سے بھارت ان حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے۔ یہ ایک چیلنجنگ وقت ہے۔ میں تمام شہریوں سے درخواست کروں گا کہ متحد ہو کر اس چیلنج سے باہر نکلیں۔ جو لوگ اس معاملے پر سیاست کر رہے ہیں، انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ملک کے 140 کروڑ شہریوں کے مفاد کا مسئلہ ہے، اس میں سیاست کی کوئی جگہ نہیں ہے۔”
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



