ایران اوراسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہوئے 6 دن ہوچکے ہیں۔ اس تنازعہ میں اب تک ایک ہزارسے زیادہ افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ دریں اثنا، دنیا کے کئی ممالک ایران کا ساتھ دے رہے ہیں، جبکہ دیگراسرائیل اورامریکہ کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کئی جھوٹے دعوے بھی کئے جا رہے ہیں۔ بھارت نے اس دعوے کو بھی واضح طورپرمسترد کردیا ہے کہ امریکہ ایران پرحملوں کے لئے ہندوستانی بندرگاہوں کا استعمال کررہا ہے۔
بھارت کے بارے میں یہ دعویٰ ایک وائرل ویڈیوسے شروع ہوا ہے، جس میں سابق امریکی فوجی افسرڈگلس میک گریگرنے ایک انٹرویومیں دعویٰ کیا تھا کہ امریکی بحریہ کوبھارت اور بھارتی بندرگاہوں پرانحصارکرنا پڑرہا ہے۔ ویڈیو میں ان کا مزید کہنا ہے کہ ہمارے تمام ٹھکانے تباہ ہوچکے ہیں۔ ہماری بندرگاہ کی تنصیبات بھی تباہ ہوچکی ہیں۔ ہمیں ہندوستان اورہندوستانی بندرگاہوں پرانحصار کرنا پڑرہا ہے جوکہ کوئی مثالی صورتحال نہیں ہے۔ ڈگلس کے دعوے پربھارت کا ردعمل بھی اب سامنے آ گیا ہے۔
بھارت کا ردعمل کیا تھا؟
ہندوستان کی وزارت خارجہ (ایم ای اے) نے ان دعوؤں کومکمل طورپرفرضی اورغلط قراردیا ہے۔ ایم ای اے کے حقائق کی جانچ کرنے والے اکاؤنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرلکھا، “ہم ایسے بے بنیاد اورمن گھڑت بیانات کے خلاف احتیاط کرتے ہیں۔” بھارت نے واضح کیا کہ ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ بھارت نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی فوجی کارروائی کے لئے اپنی بندرگاہوں کے استعمال کی اجازت دینے کے دعوے کویکسرمسترد کرتا ہے۔ حکومت نے ایسی خبروں کوافواہیں اورغلط معلومات قراردیا ہے۔
Fake News Alert!
Claims being made on OAN, a US based channel that Indian ports are being used by the US Navy are fake and false. We caution you against such baseless and fabricated comments. pic.twitter.com/xiFWnkoXBk
— MEA FactCheck (@MEAFactCheck) March 4, 2026
جنگ سے متعلق ہندوستان نے کیا کہا؟
بھارت نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی پرگہری تشویش کا اظہارکیا ہے اورسبھی فریق سے احتیاط برتنے، کشیدگی نہ بڑھانے اورشہریوں کی سیکورٹی کوترجیح دینے کی اپیل کی ہے۔ اسی کو دھیان میں رکھتے ہوئے بھارت مسلسل اپنے لوگوں کونکالنے کا کام کررہا ہے۔ اب تک جنگ متاثرہ ممالک سے سینکڑوں لوگوں کو بھارت لایا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


