نئی دہلی : دہلی-این سی آر خطہ گزشتہ چند برسوں سے شدید فضائی آلودگی کے بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ ماحولیاتی تنظیم چنتن انوائرنمنٹل ریسرچ اینڈ ایکشن گروپ کی تازہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ بڑھتی ہوئی آلودگی بچوں کی صحت، ذہنی کیفیت، تعلیم اور روزمرہ زندگی پر گہرے منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ دسمبر 2025 سے جنوری 2026 کے دوران کی گئی اس تحقیق میں 6 سے 15 سال عمر کے 1,257 بچوں سے گفتگو کی گئی، جب آلودگی اپنی بلند ترین سطح پر تھی۔ رپورٹ کے مطابق 86 فیصد بچوں نے تسلیم کیا کہ آلودہ ہوا براہِ راست ان کی صحت کو متاثر کر رہی ہے۔ اکتوبر 2025 کے بعد تقریباً 44 فیصد بچوں کو طبی مسائل کے باعث ڈاکٹر سے رجوع کرنا پڑا، جبکہ سانس لینے میں دشواری، کھانسی، سر درد اور مسلسل تھکن جیسی شکایات عام رہیں۔
رپورٹ میں کیا انکشاف ہوا؟
’’اے جنریشن انڈر سیج‘‘ کے عنوان سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا کہ 77 فیصد بچوں نے کہا کہ زہریلی فضا انہیں بے چین، خوفزدہ، چڑچڑا اور ذہنی دباؤ کا شکار بنا رہی ہے۔ تقریباً 46.6 فیصد بچوں نے خواہش ظاہر کی کہ اگر موقع ملے تو وہ دہلی۔این سی آر چھوڑنا چاہیں گے۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ آلودگی کے اثرات صرف بچوں تک محدود نہیں بلکہ ان کے والدین، بہن بھائی اور بزرگ افراد بھی مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ تقریباً 55 فیصد بچوں کو صحت کے مسائل کے باعث اسکول سے چھٹیاں لینی پڑیں، جس سے ان کی تعلیم متاثر ہوئی۔
بچے خود کو کیسے محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں؟
فضا کے انتہائی آلودہ ہونے پر بچے مختلف حفاظتی اقدامات اختیار کرتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق تقریباً 85 فیصد بچوں نے کسی نہ کسی طریقے سے بچاؤ کی کوشش کی۔ ان میں سے 39 فیصد بچوں نے این 95 ماسک یا ایئر پیوریفائر کا استعمال کیا، جب کہ 37 فیصد نے گھروں کے اندر رہنے یا بیرونی سرگرمیاں کم کرنے کو ترجیح دی۔اس کے باوجود 85 فیصد بچوں نے آنکھوں میں جلن، کھانسی، سر درد اور تھکن جیسی علامات محسوس کرنے کی شکایت کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ احتیاطی تدابیر کے باوجود وہ خود کو مکمل طور پر محفوظ نہیں سمجھتے۔
رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ شدید آلودگی کے باوجود کئی بچے اسکول، کھیل کود اور دیگر سرگرمیوں کے لیے باہر جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مستقبل کی پالیسی سازی میں بچوں کی صحت اور ان کے عملی تجربات کو مرکزی حیثیت دینا ضروری ہے، کیونکہ صرف اوسط فضائی معیار کے اعداد و شمار مسئلے کی حقیقی شدت کو ظاہر نہیں کرتے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

